براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 109
روحانی خزائن جلد 1 ۱۰۷ براہین احمدیہ حصہ دوم کے مفہوم سے ہرگز مساوی نہیں ہو سکتا کہ زید کا جھوٹا ہونا ثابت ہے پس جس حالت میں کسی شخص کا کذب ثابت نہیں تو اس پر احکام کذب کے وارد کرنا اور کاذب کاذب کر کے پکارنا حقیقت میں انہیں لوگوں کا کام ہے کہ جن کا دھرم اور ایمان اور پر میشر اور بھگوان صرف جیفہ دنیا کا لالچ یا جاہلانہ رنگ و ناموس یا قوم اور برادری ہے اگر وہ حق کو قبول کریں اور ہر ایک نوع کی ضدیت چھوڑ دیں تو پھر ایک غریب درویش کی طرح سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دین الہی میں داخل ہونا پڑے تو پھر پنڈت جی اور گوروجی اور سوامی جی ان کو کون کہے۔ پس اگر ایسے لوگ حق اور راستی کے مزاحم نہ ہوں تو اور کون ہو اور اگر ان کا غضب اور غصہ نہ بھڑ کے تو اور کس کا بھڑ کے۔ ان کو تو اسلام کی عزت ماننے سے اپنی عزت میں فرق آتا ہے۔ طرح طرح کی وجوہ معاش بند ہوتی ہیں۔ تو پھر کیوں کر ایک اسلام کو قبول کر کے ہزار آفت خرید لیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس سچائی پر یقین کرنے کے لئے صد ہا سامان موجود ہیں اس کو تو قبول نہیں کرتے اور جن کتابوں کی تعلیم حرف حرف میں شرک کا سبق دیتی ہے ان پر ایمان لائے بیٹھے ہیں اور بے انصافی ان کی اس سے ظاہر ہے کہ اگر مثلاً کوئی عورت کہ جس کی پاک دامنی بھی کچھ ایسی ویسی ہی ثابت ہو۔ کسی ناکردنی فعل سے متہم کی جائے تو فی الفور کہیں گے جو کس نے پکڑا اور کس نے دیکھا اور کون معائنہ واردات کا گواہ ہے۔ مگر ان مقدسوں کی نسبت کہ جن کی راستبازی پر نہ ایک نہ دو بلکہ کروڑہا آدمی گواہی دیتے چلے آئے ہیں بغیر ثبوت معتبر اس امر کے کہ کسی کے سامنے انہوں نے مسودہ افترا کا بنایا یا اس منصوبہ میں کسی دوسرے سے مشورہ لیا یا وہ راز کسی شخص کو اپنے نوکروں یا دوستوں یا عورتوں میں سے بتلایا (۱۲) یا کسی اور شخص نے مشورہ کرتے یا راز بتلاتے پکڑا۔ یا آپ ہی موت کا سامنا دیکھ کر اپنے مفتری ہونے کا اقرار کر دیا۔ یونہی جھوٹی تہمت لگانے پر طیار ہو جاتے ہیں۔ پس یہی تو سیاہ باطنی کی نشانی ہے اور اسی سے تو ان کی اندرونی خرابی مترشح ہو رہی ہے۔ انبیاء وہ لوگ