براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 107
روحانی خزائن جلد 1 ۱۰۵ براہین احمدیہ حصہ دوم خیالی پلاؤ پکانے سے باز نہیں آتے اور ان صدہا دیوتوں کو جو وید کے متفرق معبود ہیں صرف ایک ہی خدا بنانا چاہتے ہیں کہ تاوید کے الہامی ہونے میں کچھ فرق نہ آ جائے۔ بہر حال جو کچھ انہوں نے وید پر دست درازی کی اور کر رہے ہیں یہ تو ان کا اختیار ہے۔ مگر قرآن شریف کی نسبت ناحق ہتک اور توہین کرنا یہ وہ کام ہے کہ جس سے ان کی سخت رسوائی ہو گی۔ چنانچہ اس کتاب کی تصنیف سے وہ دن آ بھی گیا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ اب پنڈت صاحب صدہا دلائل حقیت اور افضلیت قرآن شریف کی اور صدہا ادلہ بطلان اصول وید کے کتاب ہذا سے بذریعہ کسی لکھے پڑھے آدمی کے معلوم کر کے پھر بھی جیتے رہیں گے یا خود کشی کا ارادہ جوش مارے گا۔ کیا غضب کی بات ہے کہ قرآن شریف جیسی اعلیٰ اور افضل اور اتم اور اکمل اور احسن اور اجمل کتاب کی توہین کر کے نہ عاقبت کی ذلت سے ڈرتے ہیں اور نہ اس جہان کے طعن و تشنیع کا کچھ اندیشہ رکھتے ہیں۔ شاید ان کو دونوں عالم کی کچھ پروا نہیں رہی ۔ اگر خدا کا کچھ خوف نہیں تھا تو بارے دنیا کی ہی رسوائی کا کچھ خوف کرتے ۔ اور اگر شرم اور حیا اٹھ گیا تھا تو کاش لوگوں کے ہی لعن طعن کا اندیشہ باقی رہتا۔ اور اگر پنڈت صاحب کا کچھ مادہ ہی ایسا ہے کہ وہ ناحق خدا کے مقدس رسولوں کی توہین کر کے خوش ہوتے ہیں اور کچھ خو ہی ایسی ہے کہ سنبھلی نہیں جاتی تو اس سے بھی وہ خدا کے پاک لوگوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ پہلے اس سے نبیوں کے دشمنوں نے ان روشن چراغوں کے بجھانے کے لئے کیا کیا نہ کیا اور کون سی تدبیر ہے جو عمل میں نہ لائے۔ لیکن چونکہ وہ راستی اور صداقت کے درخت تھے۔ اس لئے وہ غیبی مدد سے دم بدم نشو و نما پکڑتے گئے اور معاندین کی مخالفانہ تدبیروں سے کچھ بھی ان کا نقصان نہ ہوا۔ بلکہ وہ ان لطیف اور خوشنما پودوں کی طرح جو مالک کے جی کو بھاتے ہیں اور بھی بڑھتے ﴿۱۱۴ پھولتے گئے ۔ یہاں تک کہ وہ بڑے بڑے سایہ دار اور پھلدار درختوں کے مانند ہو گئے اور ر کے روحانی اور حقانی آرام کے ڈھونڈنے والے پرندوں نے آ کر ان میں بسیرالیا اور دور دور