براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 94

روحانی خزائن جلد ۱ ۹۲ براہین احمدیہ حصہ دوم پہچاننے والے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ ایسے شریف لوگ ہر یک قوم میں کم و بیش موجود ہوتے ہیں جو مفسدانہ اور غیر مہذب تقریروں کو بالطبع پسند نہیں کرتے اور مختلف فرقوں کے بزرگ ہادیوں کو بدی اور بے ادبی سے یاد کرنا پرلے درجہ کی خباثت اور شرارت سمجھتے ہیں۔ اور فی الواقع بیچ بھی ہے کہ جن مقدسوں کو خدا نے اپنی خاص مصلحت اور ذاتی ارادہ سے مقتدا اور پیشوا قوموں کا بنایا اور جن روشن جو ہروں کو اس نے دنیا پر چپکا کر ایک عالم کو ان کے ہاتھ سے نور خدا پرستی اور توحید کا بخشا۔ جن کی پر زور تعلیمات سے شرک اور مخلوق پرستی جو ام الخبائث ہے اکثر حصوں زمین سے معدوم ہو گئی اور درخت ذکر وحدانیت الہی کا جو سوک گیا تھا پھر سرسبز اور شاداب اور خوشحال ہو گیا اور عمارت خدا پرستی کی جو گر پڑی تھی پھر اپنے مضبوط چٹان پر بنائی گئی۔ جن مقبولوں کو خدا نے اپنے خاص سایہ عاطفت میں لیکر ایسے عجائب طور پر تائید کی کہ وہ کروڑوں مخالفوں سے نہ ڈرے اور نہ تھکے اور نہ گھٹے اور نہ ان کی کارروائیوں میں کچھ تنزل ہوا۔ اور نہ ان پر کچھ بلا آئی جب تک کہ انہوں نے راستی کو ہر ایک موذی سے امن میں رہ کر زمین پر قائم نہ کر لیا۔ ایسے مقبولان الہی کی نسبت زبان درازی کرنا نہایت درجہ کی ناپاکی اور نا اہلی اور ہٹ دھرمی ہے۔ به مهر منیر ہم بروليش فتد تف تحقیر ہر کہ تف افگند تا قیامت تف ست بر روکش قدسیاں دور تر از بد بولیش اور جو کچھ میں اس مقام میں ادب اور حفظ لسان کے بارے میں نصیحت کر رہا ہوں یہ بلا وجہ ۱۰۳ اور بلا خاص معنے کے نہیں۔ اس وقت میرے ذہن میں کئی ایک ایسے لوگ حاضر ہیں کہ جو انبیاء اور رسولوں کی تحقیر کر کے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا ایک بڑے ثواب کا کام کر رہے بقیه حاشیه نمبر اور قصوں اور کہانیوں کا ذخیرہ ہوگا اور مقلد اس کا سودائیوں اور وہمیوں کی طرح بغیر ہونے کے کاٹنے کی امید رکھے گا۔ پس ظاہر ہے کہ ایسی کتاب کہ جس کے اصولوں کی سرسبزی عقل کی بیخ کنی پر موقوف ہے۔ انسان کو کسی نوع کی بھلائی نہیں پہنچا سکتی ۔ منہ نوع بھلائی پہنچاسکتی ۔مہ