براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 79

LL براہین احمدیہ حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۱ حق ہونا دلائل عقلیہ سے ثابت ہو تو پھر یہ سوال ہوگا کہ وہ عقائد حقہ کیونکر ہمیں معلوم ہوں اور کس یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ سے ہم ان تمام عقائد کو معہ ان کی دلائل کے بآسانی ۸۹ دریافت کر لیں اور حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچ جائیں پس اس کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ وہ یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ کہ جس سے بغیر تکلیف اور مشقت اور مزاحمت شکوک اور شبہات اور خطا اور سہو کے اصول صحیحہ معہ ان کی دلائل عقلیہ کے معلوم ہو جائیں اور یقین کامل سے معلوم ہوں وہ قرآن شریف ہے اور بجز اس کے دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں اور نہ کوئی ایسا دوسرا ذریعہ ہے کہ جس سے یہ مقصد اعظم ہمارا پورا ہو سکے۔ ہم پس جب وہی اصول جو مدار نجات کا سمجھے گئے تھے بچے نہ ہوئے تو پھر بالضرور ایسے لوگ جو ان پر بھروسہ کئے بیٹھے تھے بغیر نجات کے رہ جائیں گے اور مستوجب عذاب ابدی اور عقوبت دائگی کے ٹھہریں گے کیونکہ ان کے اپنے گھر کے اصول تو جھوٹے نکلے اور بچے اصولوں کو جو عقل کے مطابق تھے انہوں نے پہلے ہی سے قبول نہ کیا اور یہ بات اسی دنیا میں ظاہر ہے کہ جو شخص کسی امر متنع اور محال یا دروغ اور باطل کو اپنا اعتقاد تھہراتا ہے اور مدلل اور ثابت شدہ باتوں کو قبول نہیں کرتا اس کو کیسی کیسی ندامتیں اٹھانی پڑتی ہیں اور کیا کچھ اہل تحقیق کے منہ سے سننا پڑتا ہے بلکہ اپنا ہی نفس اس کا ہر وقت اس کو ملزم قرار دیتا ہے اور بسا اوقات گھبرا کر آپ ہی اپنے دل سے خطاب کرتا ہے جو یہ کیا واہیات اعتقاد ہے جو میں نے اختیار کر رکھا ہے۔ پس یہ بھی ایک عذاب روحانی ہے جو اسی جہان میں اس پر نازل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ منہ یہ قول ہمارا جو یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ شناخت عقائد حقہ کا بجز قرآن شریف (۸۹) کے اور کوئی نہیں اپنے موقعہ پر بدلائل کا ملہ ثابت کیا گیا ہے اور جو لوگ دوسری کتابوں کے پابند ہیں ان کے اصولوں کا غلط اور باطل اور نا درست ہونا بکمال تحقیق دکھلایا گیا ہے مگر شائد اس جگہ بر ہمو سماج والے جو کسی کتاب الہامی کے پابند نہیں اور اصول حقہ کے جاننے میں صرف اپنی ہی عقل کو کافی سمجھتے ہیں اس وہم کو دل میں جگہ دیں کہ کیا مجرد عقل انسان