براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 75
۷۳ براہین احمدیہ حصہ دوم روحانی خزائن جلد 1 ان کے عقائد کے بطلان ظاہر کرنے میں کسی طرح کی فروگذاشت اور کسی طور کا اخفا نہ رکھا جائے بالخصوص جبکہ وہ لوگ ہماری دانست میں صراط مستقیم سے دور اور مہجور ہیں اور ہم اپنے (۸۵) سچے دل سے ان کو خطا پر سمجھتے ہیں اور ان کے اصول کو حق کے برخلاف جانتے ہیں اور ان کا انہیں عقائد پر اس عالم فانی سے کوچ کرنا موجب عذاب عظیم یقین رکھتے ہیں۔ تو پھر اس صورت میں اگر ہم ان کی اصلاح سے عمداً چشم پوشی کریں اور ان کا گمراہ ہونا اور دوسرے لوگوں کو گمراہی میں ڈالنا دیدہ و دانستہ روا رکھیں تو پھر ہمارا کیا ایمان اور کیا دین ہوگا اور ہم اپنے خدا کو کیا جواب دیویں گے ۔ اور اگر چہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض دنیا پرست آدمی کہ جن کو خدا اور خدا کے سچے دین کی کچھ بھی پروانہیں ان کو اپنے مذہب کی خرابیاں یا اسلام کی خوبیاں سن کر بڑا رنج دل میں گزرے گا اور منہ بگاڑیں گے اور کچھ کا کچھ بولیں گے مگر ہم امیدرکھتے ہیں کہ ایسے طالب صادق بھی کئی نکلیں گے کہ جو اس کتاب کے پڑھنے سے صراط مستقیم کو پا کر جناب الہی میں سجدات شکر کے ادا کریں گے اور خدا نے جو ہم کو سجھایا ہے وہ اُن کو بھی سوجھاوے گا اور جو کچھ ہم پر ظاہر کیا ہے وہ ان پر بھی ظاہر کر دے گا اور حقیقت میں یہ کتاب انہیں کے لئے تصنیف ہوئی ہے اور یہ سارا بوجھ ہم نے انہیں کی خاطر اٹھایا ہے وہی ہمارے حقیقی مخاطب ہیں اور ان کی خیر خواہی اور ہمدردی ہمارے دل میں اس قدر بھری ہوئی ہے کہ نہ زبان کو طاقت ہے کہ بیان کرے اور نہ قلم کو قوت ہے کہ تحریر میں لاوے۔ بدل در دے کہ دارم از برائے طالبان حق نمی گردد بیاں آں درد از تقریر کوتاہم دل و جانم چناں مستغرق اندر فکر اوشان است کہ نے از دل خبر دارم نه از جان خود آگا ہم بدین شادم که غم از بهر مخلوق خدا دارم ازیں در لز تم کز درد مے خیزد ز دل آہم مرا مقصود و مطلوب و تمنا خدمت خلق است ہمیں کارم ہمیں بارم ہمیں رسم ہمیں راہم نه من از خود نهم در کوچه پند و نصیحت پا که همدردی برد آنجا به جبر و زور و اکراهم