برکاتُ الدُّعا — Page 8
روحانی خزائن جلد ۶ بركات الدعاء قانون میں فتنہ اور تفریق ڈالتے ہیں؟ کیا سید صاحب کا یہ مذہب ہے کہ خدا تعالی اس بات پر تو قادر تھا کہ تربد اور سقمونیا اور سنا اور حب الملوک میں تو ایسا قومی اثر رکھے کہ ان کی پوری خوراک کھانے کے ساتھ ہی دست چھوٹ جائیں یا مثلاًاسم الفار اور بیش اور دوسری ہلا ہل زہروں میں وہ غضب کی تاثیر ڈال دی کہ ان کا کامل قدر شربت چند منٹوں میں ہی اس جہان سے رخصت کر دے لیکن اپنے برگزیدوں کی توجہ اور عقد ہمت اور تضرع کی بھری ہوئی دعاؤں کو فقط مردہ کی طرح رہنے دے جن میں ایک ذرہ بھی اثر نہ ہو؟ کیا یہ ممکن ہے کہ نظام الہی میں اختلاف ہو اور وہ ارادہ جو خدا تعالیٰ نے دواؤں میں اپنے بندوں کی بھلائی کے لئے کیا تھا وہ دعاؤں میں مرعی نہ ہو؟ نہیں نہیں ! ہر گز نہیں ! بلکہ خود سید صاحب دعاؤں کی حقیقی فلاسفی سے بے خبر ہیں اور ان کی اعلی تا شیروں پر ذاتی تجربہ نہیں رکھتے اور ان کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی ایک مدت تک ایک پرانی اور سال خوردہ اور مسلوب القومی دوا کو استعمال کرے اور پھر اس کو بے اثر پاکر اس دوا پر عام حکم لگا دے کہ اسمیں کچھ بھی تاثیر نہیں۔ افسوس ! صد افسوس کہ سید صاحب با وجود یکه پیرانہ سالی تک پہنچ گئے مگر اب تک اُن پر یہ سلسلہ نظام قدرت مخفی رہا کہ کیونکر قضا و قدر کو اسباب سے وابستہ کر دیا گیا ہے اور کس قدر یہ سلسلہ اسباب اور مسببات کا باہم گہرے اور لازمی تعلقات رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس دھو کے میں پھنس گئے کہ انہوں نے خیال کر لیا کہ گویا بغیر ان اسباب کے جو قدرت نے روحانی اور جسمانی طور پر مقرر کر رکھے ہیں کوئی چیز ظہور پذیر ہو سکتی ہے۔ یوں تو دنیا میں کوئی چیز بھی مقدر سے خالی نہیں مثلاً جو انسان آگ اور پانی اور ہوا اور مٹی اور اناج اور نباتات اور حیوانات و جمادات وغیرہ سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ سب مقدرات ہی ہیں لیکن اگر کوئی نادان ایسا خیال کرے کہ بغیر ان تمام اسباب کے جو خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھے ہیں اور بغیر ان راہوں کے جو قدرت نے معین کر دی ہیں ایک چیز بغیر توسط جسمانی یا روحانی