برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 502

برکاتُ الدُّعا — Page 5

روحانی خزائن جلد ۶ بسم الله الرحمن الرحيم نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بركات الدعاء سید احمد خان صاحب کے سی۔ایس۔ آئی۔ کے رسالہ الدعا والاستجابة اور رسالہ تحریر فی اصول التفسیر پر ایک نظر اے اسیر عقل خود بر ہستی خود کم بناز کین سپهر بوالعجائب چون تو بسیار آورد غیر را هرگز نمی باشد گزر در کوئی حق ہر کہ آید ز آسمان او را از آن یار آورد خود بخود فهمیدن قرآن گمان باطل است هر که از خود آورد اونجس و مردار آورد سید صاحب اپنے رسالہ مندرجہ عنوان میں دعا کی نسبت اپنا یہ عقیدہ ظاہر کرتے ہیں کہ استجابت دعا کے یہ معنے نہیں ہیں کہ جو کچھ دعا میں مانگا گیا ہے وہ دیا جائے کیونکہ اگر استجابت دعا کے یہی معنے ہوں کہ وہ سوال بہر حال پورا کر دیا جائے تو دو شکلیں پیش آتی ہیں اول یہ کہ ہزاروں دعائیں نہایت عاجزی اور اضطراری سے کی جاتی ہیں مگر سوال پورا نہیں ہوتا جس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوئی حالانکہ خدا نے استجابت دعا کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری یہ کہ جو امور ہونے والے ہیں وہ مقدر ہیں اور جو نہیں ہونے والے وہ بھی مقدر ہیں ۔ اُن مقدرات کے برخلاف ہر گز نہیں ہو سکتا پس اگر استجابت دعا کے معنے سوال کا پورا کرنا قرار دیئے جائیں تو خدا کا یہ وعدہ کہ اُدعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ان سوالوں پر جن کا ہونا مقدر نہیں ہے صادق نہیں آسکتا یعنی ان معنوں کی رو سے یہ عام وعدہ استجابت دعا (۲) کا باطل ٹھہرے گا کیونکہ سوالوں کا وہی حصہ پورا کیا جاتا ہے جس کا پورا کیا جانا مقدر ہے ۔ لیکن استجابت دعا کا وعدہ عام ہے جس میں کوئی بھی استثناء نہیں پھر جس حالت میں المؤمن : ٦١