برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxv of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxxv

پادریوں کا وار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب دوران مناظرہ میں بار بار زندہ مذہب کی شناخت کا معیار تازہ نشان دکھانا قرار دیا اور یہ کہ مدعی فریق جس کتاب کو الہامی سمجھتا ہے اُس میں مومن کی بیان کردہ علامات کو اپنے وجود میں ثابت کر دکھائے تو وہ پکا مسلمان یا عیسائی ہو سکتا ہے۔اور خود نہایت زور شور سے دعویٰ کیا کہ قرآن مجید میں ایمان کی بیان کردہ علامات کو مَیں اپنے وجود میں ثابت کر دکھاؤں گا۔اور ایک سال کے اندر اندر جس رنگ میں اﷲ تعالیٰ چاہے گا ایسا نشان دکھاؤں گا جس پر فریق مخالف ہرگز ہرگز قادر نہ ہو گا۔پادری عبداﷲ آتھم نے اس دعوت کو قبول کرنے سے بھی پہلو تہی کی۔لیکن کئی دن کے غور و فکر کے بعد ایک سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت اپنی طرف ایک ایسا وار کیا جس کے متعلق انہیں یقین تھا کہ اِس وار سے فریق مخالف ضرور شکست یافتہ سمجھا جائے گا اور ہمارے ہاں فتح کے نقارے بجیں گے اور وہ وار یہ تھا کہ ۲۶؍ مئی ۱۸۹۳ء کے مباحثہ کے دن پادری عبداﷲ آتھم نے یہ بیان لکھوایا کہ ’’ہم مسیحی توپرانی تعلیمات کے لئے نئے معجزات کی کچھ ضرورت نہیں دیکھتے اور نہ ہم اس کی استطاعت اپنے دیکھتے ہیں۔۔۔اور نشانات کا وعدہ ہم سے نہیں لیکن جناب کو اِس کا بہت سا ناز ہے ہم بھی دیکھنے معجزہ سے انکار نہیں کرتے‘‘ ’’پس ہم یہ تین شخص پیش کرتے ہیں جن میں ایک اندھا ایک ٹانگ کٹا اور ایک گونگا ہے اِن میں سے جس کسی کو صحیح و سالم کر سکو کر دو۔اور جو اس معجزہ سے ہم پر فرض و واجب ہو گا ہم ادا کریں گے آپ بقول خود ایسے خدا کے قائل ہیں جو گفتہ قادر نہیں لیکن درحقیقت قادر ہے تو وہ اُن کو تندرست بھی کرسکے گا پھر اس میں تأمل کی کیا ضرورت ہے۔اور ضرور بقول آپ کے راستباز کے ساتھ ہو گا ضرور ہو گا۔آپ خَلق اﷲ پر رحم فرمایئے جلد فرمایئے اور آپ کو خبر ہو گی کہ آج یہ معاملہ پڑنا ہے جس خدا نے الہام سے آپ کو خبر دے دی کہ اس جنگ و میدان میں تجھے فتح ہے اس نے ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا ہو گا کہ اندھے و دیگر مصیبت زدوں نے بھی پیش ہونا ہے سو سب