ایّام الصّلح — Page 420
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۲۰ امام الصلح که در اصل صحیح نہ ہو۔ اور بسا اوقات ایک حدیث موضوع سمجھی جاتی ہے اور آخر وہ بچی نکلتی ہے اور یہ حدیث تو کئی طریقوں سے ثابت ہے ۔ پس اب اس کو موضوع کہنا صریح ایمان سے ہاتھ دھونا ہے اگر شک ہو تو ہمارے سامنے آؤ اور کتابیں دیکھ لو۔ علاوہ اس کے یہ کیسی حماقت ہے کہ جب حدیث میں ایسی پیشگوئی تھی جس پر سوا خدا کے اور کوئی قادر نہیں ہوسکتا اور وہ پیشگوئی پوری ہو گئی تو کیا اب بھی اس حدیث کی صحت میں شک رہا؟ (۱۷۲) قولہ ۔ عربی تصنیفات کی بے نظیری کا دعویٰ غلط ہے کیونکہ قرآن کے سوا یہ دعوی انجیل، زبور اور احادیث نبوی نے بھی نہیں کیا۔ اقول ۔ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ امام آخر الزمان کے لئے ضروری تھا کہ وہ ذوالبروزین ہو اور عیسوی برکات اور محمدی برکات اُس میں پائی جائیں اور یہ دونوں برکات اُس کے سچا ہونے کی علامتیں تھیں سو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یہ معجزہ بھی دیا گیا تھا کہ قرآن شریف جو افصَحُ الكَلِم ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوا سو ضرور تھا کہ مہدی جس کا نام بروز کے طور پر احمد اور محمد رکھا گیا اس معجزہ کا بھی وارث ہو۔ پس اسی وجہ سے یہ عاجز ظلی طور پر اس معجزہ کا وارث کیا گیا اور اس بات میں کونسا حرج اور دینی نقص ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ امور جو کسی زمانہ میں معجزہ کے رنگ میں ظاہر ہوئے تھے اب کرامت کے رنگ میں ظاہر فرمائے۔ اور کرامت در اصل نبی متبوع کا معجزہ ہی ہوتا ہے ہمیں اس سے کیا غرض ہے کہ انجیل کا کلام بطور معجزہ کے نہیں یا توریت کا کلام بطور معجزہ کے نہیں ہے۔ ہمیں اپنے نبی علیہ السلام سے غرض ہے۔ اب خلاصہ جواب یہ ہے کہ جب کہ یہ ایک ضروری امر تھا کہ تمام برکات محمدیہ سے مہدی آخر الزمان کو حصہ ملے۔ لہذا یہ امر بھی واجب تھا انجیل توریت دونوں محرف ہیں اب ان کتابوں کی بلاغت فصاحت کی نسبت کوئی رائے ظاہر کرنا ممتنعات میں سے ہے۔ منہ