ایّام الصّلح — Page 416
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۱۶ امام الصلح وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ے پس ہم گناہ گار ہوں گے اگر دیدہ و دانستہ تہلکہ کی طرف قدم اٹھائیں گے اور حج کو جائیں گے ۔ اور خدا کے حکم کے برخلاف قدم اٹھانا معصیت ہے حج کرنا مشروط بشرائط ہے مگر فتنہ اور تہلکہ سے بچنے کے لئے قطعی حکم ہے جس کے ساتھ کوئی شرط نہیں ۔ اب خود سوچ لو کہ کیا ہم قرآن کے قطعی حکم کی پیروی کریں یا اس حکم کی جس کی شرط موجود ہے۔ باوجود تحقق شرط کے پیروی اختیار کریں۔ ماسوا اس کے میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آپ اس سوال کا جواب دیں کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو کیا اول اس کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کو دجال کے خطرناک فتنوں سے نجات دے یا یہ کہ ظاہر ہوتے ہی پہلے حج کو چلا جائے ۔ اگر بموجب نصوص قرآنیہ و حدیثیہ پہلا فرض مسیح موعود کا حج کرنا ہے نہ دجال کی سرکوبی ، تو وہ آیات اور احادیث دکھلانی چاہئیں تا ان پر عمل کیا جائے ۔ اور اگر پہلا فرض مسیح موعود کا جس کے لیے وہ باعتقاد آپ کے مامور ہو کر آئے کا قتل دجال ہے جس کی تاویل ہمارے نزدیک اہلاک ملل باطلہ بذریعہ حجج و آیات ہے تو پھر وہی کام پہلے کرنا چاہیے۔ اگر کچھ دیانت اور تقویٰ ہے تو ضرور اس بات کا جواب دو کہ مسیح موعود دنیا میں آ کر پہلے کس فرض کو ادا کرے گا کیا پہلے حج کرنا اس پر فرض ہوگا یا یہ کہ پہلے دجالی فتنوں کا قصہ تمام کرے گا؟ یہ مسئلہ کچھ باریک نہیں ہے صحیح بخاری یا مسلم کے دیکھنے سے اس کا جواب مل سکتا ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ گواہی ثابت ہو کہ پہلا کام مسیح موعود کا حج ہے تو لو ہم بہر حال حج کو جائیں گے۔ ہر چہ بادا باد لیکن پہلا کام مسیح موعود کا استیصال فتن دجّالیہ ہے تو جب تک اس کام سے ہم فراغت نہ کر لیں حج کی طرف رخ کرنا خلاف پیشگوئی نبوی ہے۔ ہمارا حج تو اس وقت ہوگا ۱۲۹جب دجال بھی کفر اور دجل سے باز آ کر طواف بیت اللہ کرے گا ۔ کیونکہ بموجب حدیث صحیح کے اس جگہ کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ ازالہ اوہام میں یہ لکھا ہے کہ دجال کا طواف بد نیتی سے ہو گا جس طرح چور گھروں کا طواف بد نیتی سے کرتا ہے ۔ اب یہ بیان اس کے مخالف ہے کیونکہ دجال در حقیقت ایک گروہ مفسدین البقرة: ١٩٦