ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 550

ایّام الصّلح — Page 415

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۱۵ اتمام الصلح قوله : با وجود مقدرت حج نہیں کیا ۔ ( یہ میری ذات پر حملہ ہے ) اقول ۔ اس اعتراض سے آپ کی شریعت دانی معلوم ہوگئی ۔ گویا آپ کے نزدیک مانع حج صرف ایک ہی امر ہے کہ زادِ راہ نہ ہو۔ آپ کو بوجہ اس کے کہ دنیا کی کشمکش میں عمر کو ضائع کیا اس قدر سہل اور آسان مسئلہ بھی جو قرآن اور احادیث اور فقہ کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے معلوم نہ ہوا کہ حج کا مانع صرف زادراہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عند اللہ حج نہ کرنے کے لئے عذ ریح ہیں۔ چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے۔ اور نیز اُن میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکہ میں امن کی صورت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے من اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا عجیب حالت ہے کہ ایک طرف بد اندیش علماء مکہ سے فتوی لاتے ہیں کہ یہ شخص کافر ہے اور پھر کہتے ہیں کہ حج کے لئے جاؤ اور خود جانتے ہیں کہ جب کہ مکہ والوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا تو اب مکہ فتنہ سے خالی نہیں اور خدا فرماتا ہے کہ جہاں فتنہ ہواس جگہ جانے سے پر ہیز کرو۔ سو میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسا اعتراض ہے۔ ان لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ فتنہ کے دنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی حج نہیں کیا اور حدیث اور قرآن سے ثابت ہے کہ فتنہ کے مقامات میں جانے سے پر ہیز کرو۔ یہ کس قسم کی شرارت ہے کہ مکہ والوں میں ہمارا کفر مشہور کرنا اور پھر بار بار حج کے بارے میں اعتراض کرنا ۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُوْرِهِمْ - وَره سوچنا چاہیے کہ ہمارے حج کی ان لوگوں کو کیوں فکر پڑ گئی۔ کیا اس میں بجز اس بات کے کوئی اور بھید بھی ہے کہ میری نسبت ان کے دل میں یہ منصوبہ ہے کہ یہ مکہ کو جائیں اور پھر چند اشرار الناس پیچھے سے مکہ میں پہنچ جائیں اور شور قیامت ڈال دیں کہ یہ کافر ہے اسے قتل کرنا چاہیے۔ سو بر وقت ورود حکم الہی ان احتیاطوں کی پروانہیں کی جائے گی ۔ مگر قبل اس کے شریعت کی پابندی لازم ہے اور مواضع فتن سے اپنے تئیں بچانا سنت انبیاء علیہم السلام ہے ۔ مکہ میں عنان حکومت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو ان مکفرین کے ہم مذہب ہیں۔ جب یہ لوگ ہمیں واجب القتل ٹھہراتے ہیں تو کیا وہ لوگ ایڈا سے کچھ فرق کریں گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (۱۲۸) ال عمران: ۹۸