ایّام الصّلح — Page 414
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۱۴ امام الصلح جو مولویوں سے عزت اور وجاہت ملے گی وہ یہ ہے۔ لیکن جو شخص خدا کے نزدیک خدا کے فرشتوں کے نزدیک خدا کے نیک بندوں کے نزدیک عزت اور وجاہت رکھتا ہے اگر پلید جاہلوں کے نزدیک وہ کافر اور دجال ہو تو اس سے اس کا کیا نقصان ہوا۔ ے مه نور میفشاند و سگ بانگ میزند سنگ را بپرس خشم تو با ماہتاب چیست اور یہ بھی سوچو کہ اگر وجاہت کے لئے دُنیا داروں کی اطاعت اور تعظیم شرط ہے تو کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے کفار کے ہاتھ سے نکالے گئے اور دُکھ دیئے گئے تو کیا اُس وقت آپ وجیہ نہ تھے ؟ اور مکہ کی فتح کے بعد وجیہ ہوئے ؟ غرض آپ کا یہ اعتراض دینی اور روحانی دوراندیشی کی بنا پر نہیں بلکہ دنیا داری اور رسم اور عادت کے گندے تصورات سے پیدا ہوا ہے۔ بہتیرے نبی دنیا میں ایسے آئے کہ دو آدمیوں نے بھی اُن کو قبول نہیں کیا تو کیا وہ وجیہ نہیں تھے؟ اور حضرت مسیح علیہ السلام کب قبولیت سے بکلی خالی رہے تھے ؟ صد ہا لوگوں نے اُن کو قبول کر لیا۔ یحییٰ علیہ السلام نے مع اپنی تمام جماعت کے قبول کیا۔ حواریوں نے قبول کیا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک بادشاہ نے بھی قبول کیا تھا۔ اس بات کے عیسائی بھی قائل ہیں۔ اب اس سے زیادہ اور کیا وجاہت ہو گی۔ یہ وجاہت تو ان کو اپنے زمانے میں حاصل ہوئی یہاں تک کہ انجیل میں لکھا ہے کہ صد با آدمی اہل حاجت نیاز مندی کے ساتھ اُن کے گر درہتے تھے اور ہجوم کی وجہ سے بعض دفعہ ان کو ملنا مشکل ہو جاتا تھا اور اگر چہ بعض مولوی یہودیوں نے ان کو کافر کہا مگر جس زور شور سے مسیح موعود کی تکفیر ہوئی ایسی تکفیر حضرت عیسی کی نہیں ہوئی بلکہ انجیل سے ثابت ہے کہ اکثر کفار کے دلوں میں بھی حضرت عیسی کی وجاہت تھی اور پھر موت کے بعد تو وہ وجاہت ہوئی کہ خدا بنائے گئے اور ہمارے مخالف مولویوں کو تو یہ اقرار کرنا چاہیئے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی خدا بننے کی وجاہت بھی دیکھ لی اور دیکھ رہے ہیں کیونکہ اُن کے عقیدہ کے رُو ۱۶ سے وہ اب تک زندہ موجود ہیں اور یورپ کے تمام طاقتور بادشاہ مع اپنے ارکان دولت کے اُن کو خدائے ذوالجلال مانتے ہیں کیا ایسی وجاہت کسی دوسرے انسان کی ہوئی ؟۔