ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 412 of 550

ایّام الصّلح — Page 412

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۱۲ امام الصلح نہیں آتے کہ اُن کی پرستش کی جائے بلکہ اس لئے آتے ہیں کہ لوگ اُن کے نمونے پر چلیں اور اُن سے تشبہ حاصل کریں اور اُن میں فنا ہو کر گویا وہی بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قل إن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُعْبُكُمُ الله پس خدا جس سے محبت کرے گا کونسی نعمت ہے جو اُس سے اٹھا رکھے گا اور اتباع سے مراد بھی مرتبہ فنا ہے جو مثیل کے درجے تک پہنچاتا ہے ۔ اور یہ مسئلہ سب کا مانا ہوا ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کرے گا مگر وہی جو جاہل سفیہ یا ملحد بے دین ہوگا۔ قوله مسیح کے دوبارہ آنے پر ایک یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہب وَجَيْهَا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ اور حضرت مسیح نے اس زمانہ میں جب کہ وہ یہودیوں کے لئے معبوث ہوئے عزت نہیں پائی اس لئے ماننا پڑا کہ پھر وہ آدیں گے تب دنیا کی وجاہت اُن کو نصیب ہوگی۔ اقول ۔ یہ خیال بالکل بیہودہ ہے۔ قرآن شریف میں یہ لفظ نہیں کہ وَجِيْهَا عِنْدَ أَهْلِ الدُّنْيَا دنیا داروں اور دنیا کے کتوں کی نظر میں تو کوئی نبی بھی اپنے زمانے میں وجیہ نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے کسی نبی کو تسلیم نہیں کیا بلکہ قبول کرنے والے اکثر ضعفاء اور غرباء ہوئے ہیں جو دنیا سے بہت کم حصہ رکھتے تھے سو آیت کے یہ معنے نہیں کہ پہلے زمانے میں عیسی کو دنیا کے رئیسوں اور امیروں اور گری نشینوں نے قبول نہ کیا لیکن دوسری مرتبہ قبول کریں گے۔ بلکہ قرآن کے عام محاورہ کے رُو سے آیت کے یہ معنے ہیں کہ دنیا میں بھی راستبازوں میں مسیح کی عزت ہوئی اور و جاہت مانی گئی جیسا کہ بیٹی نبی نے اُن کو مع اپنی تمام جماعت کے قبول کیا اور ان کی تصدیق کی اور بہتوں نے تصدیق کی اور قیامت میں بھی وجاہت ظاہر ہو گی ۔ پھر میں کہتا ہوں کہ کیا اب تک حضرت عیسی کو دنیا کی وجاہت نصیب نہ ہوئی حالانکہ چالیس کروڑ انسان اُن کو خدا کر کے (۱۲۵) مانتا ہے۔ کیا وجاہت کے لئے زندہ موجود ہونا بھی ضروری ہے اور مرنے کے بعد وجاہت جاتی رہتی ہے ۔ ماسوا اس کے مسیح علیہ السلام کا دنیا میں دوبارہ آنا کسی طرح موجب وجاہت نہیں بلکہ آپ لوگوں کے عقیدے کے موافق اپنی حالت اور مرتبہ سے متنزّل ہو کر آئیں گے امتی بن کے امام مہدی کی بیعت کریں گے ۔ مقتدی بن کر اُن کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ ال عمران ۲۳۲ ال عمران: ۴۶