ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 550

ایّام الصّلح — Page 410

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۱۰ قولہ۔ ہر ایک نبی کی شہادت نبی ہی دیتا چلا آیا ہے۔ ایام الصلح اقول ۔ یہ ایک گھر کا بنایا ہوا قاعدہ ہے جس پر کوئی نص قرآنی یا حدیثی دلالت نہیں کرتی ۔ اور اگر یہ صحیح ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ عیسی علیہ السلام جب آسمان پر سے نازل ہوں تو پھر اُن کے بعد اُن کی تصدیق کے لئے کوئی اور نبی آوے کیونکہ کیا معلوم کہ وہ در حقیقت عیسی ہے یا نہیں ۔ دنیا ایمان بالغیب کی جگہ ہے کوئی مبعوث ہو کچھ نہ کچھ پردہ ضرور ہوتا ہے۔ پھر اس نبی کی تصدیق کے لئے کوئی اور نبی آنا چاہیئے ۔ پس اس سے تسلسل پیدا ہوگا اور وہ باطل ہے اور جوا مستلزم باطل ہو وہ بھی باطل ہے۔ ماسوا اس کے نصوص حدیثیہ قرآنیہ کے رو سے اہل کرامت کی تصدیق اہل معجزہ کی تصدیق کے قائم مقام ہے کیونکہ کرامت بھی رسول متبوع کا معجزہ ہے اور بموجب حدیث صحیح کے محدث کا الہام بھی وحی کے نام سے موسوم اور مثل وحی انبیاء علیہم السلام کے دخل شیطان سے پاک اور خدا کی وحی ہے اور جب وہ بھی خدا کی وحی ہے تو جو خدا کے منہ سے نکلا ہے اُس کی شہادت اسی رنگ کی ہے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کی شہادت پھر یہ بھی سوچو کہ کیا دنیا میں کسی مسلمان کا اعتقاد ہو سکتا ہے کہ جب تک مسیح موعود نہیں آئے گا اُس وقت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت معرض شک میں ہے اور مسیح کی گواہی کی محتاج ہے؟ اور اگر فرض کریں کہ مسیح نہ آوے اور گواہی نہ دے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت شنکی اور مشتبہ (۱۹۳) رہے۔ نعوذ بالله من هذه الخرافات والكفريات - یہ کس قدر بیہودہ خیال ہے اور قریب ہے کہ کفر ہو جائے۔ مسیح موعود کا آنا اس لئے نہیں کہ نعوذ باللہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ابھی ثابت نہیں اس کی گواہی سے ثابت ہو گی بلکہ اس لئے ہے کہ تا وہ مجد دوں کے رنگ میں ظاہر ہو اور فتنہ صلیبہ کو دور کر کے دنیا میں توحید اور توحیدی ایمان کا جلال ظاہر کرے۔ قولہ ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے لئے ایک نبی شاہد کی ضرورت ہے۔ حمل بالخصوص جب کہ یہ بھی آثار میں ہے کہ مہدی اور اُس کی تمام جماعت مسیح موعود وغیرہ کو کافر ٹھہرایا جائے گا تو اس حالت میں حسب اقرار تمہارے کسی اور نبی کے آنے کی نہایت ضرورت ہے تا علماء مکفرین کو کافر اور کاذب ٹھہر اوے اور عیسی کو سچا نبی قرار دے۔ منہ