ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 405 of 550

ایّام الصّلح — Page 405

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۰۵ اتمام الصلح معارف اور علوم الہیہ کو پھیلانا تھا اور آپ کی دُعا اور توجہ اور ہمت یہی کام کر رہی تھی سو اس زمانہ میں اسرار اور معارف اور علوم حکمیہ بھی پھیل رہے ہیں اور یہ دونوں قسم کی برکتیں یعنی جسمانی اور روحانی عام طور پر بھی دنیا میں ظاہر ہو رہی ہیں یعنی بالواسطہ اور خاص طور پر بھی ظاہر ہو رہی ہیں یعنی بلا واسطه امام موعود سے صادر ہورہی ہیں۔ پس چونکہ دنیوی برکتیں عیسی صفت انسان کی تجلی کو چاہتی تھیں اور روحانی برکتیں محمد صفت انسان کے ظہور کا تقاضا کرتی تھیں اور خدا وحدت کو پسند کرتا ہے نہ تفرقہ کو اس لئے اُس نے یہ دونوں شانیں ایک ہی انسان میں جمع کر دیں تا دو کا بھیجنا موجب تفرقہ نہ ہو۔ سو ایک ہی شخص ہے جو ایک اعتبار سے مظہر عیسی علیہ السلام ہے اور دوسرے اعتبار سے مظہر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور یہی ستر اس حدیث کا ہے کہ لَا مَهْدِى الا عیسی ۔ اور یہی سر ہے کہ جو احادیث میں امامت کا کام مہدی کے سپر د بیان کیا گیا ہے اور قتل دجال کا کام مسیح کے سپر د ظاہر فرمایا گیا ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ امامت امور روحانیہ میں سے ہے جس کا نتیجہ استقامت اور قوت ایمان اور معرفت اور اتباع مرضات الہی ہے جو اخروی برکات میں سے ہے۔ لہذا اس قسم کی برکت برکات محمدیہ میں سے ہے۔ اور دجال کی (۱۵۸) شوکت اور شان کو صفحیہ زمین سے معدوم کرنا جس کو قتل کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ دنیوی برکات میں سے ہے کیونکہ دشمن کی ترقی کو گھٹا کر ایسا کا لعدم کر دینا گویا اس کو قتل کر دینا یہ دُنیا کے کاموں میں سے ایک قابل قدر کام ہے اور اس قسم کی برکت برکات عیسویہ میں سے ہے۔ اب اگر یہ سوال پیش ہو کہ ہمیں کیونکر معلوم ہو کہ یہ دونوں قسم کی برکتیں جو عیسوی برکت اور محمدی برکت کے نام سے موسوم ہو سکتی ہیں تم میں جو مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعوی کرتے ہو جمع ہیں اور کیونکر ہم صرف دعوے کو قبول کر لیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان برکات کو اللہ جل شانہ نے محض اپنے فضل اور کرم سے مجھ میں ثابت کر دیا ہے اور میں بڑے دعوے سے کہتا ہوں کہ میں ان دونوں قسم کی برکتوں کا جامع ہوں۔ اور آج تک جو