ایّام الصّلح — Page 396
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۹۶ اتمام اصلح زمانہ کو عام خیال ہدایت یابی کا پیدا ہوا اور دلوں کو خود بخود خدا کی طرف توجہ ہو گئی۔ مہدویت سے مراد وہ بے انتہا معارفِ الہیہ اور علوم حکمیہ اور علمی برکات ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر واسطہ کسی انسان کے علم دین کے متعلق سکھلائے گئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے اوّل درجہ کا معجزہ ہے ۔ جن کے ذریعہ سے بے شمار انسان ایمانی اور عملی قومی کی تکمیل کر کے معرفت تامہ کے بلند مینار تک پہنچ گئے اور عارف کامل ہو گئے ۔ مسلمان اگر اس بات کا فخر کریں تو بجا ہے کہ جس قدر ان کو اپنے نبی کریم اور کتاب اللہ قرآن شریف کے ذریعہ سے اسرار اور علوم اور نکات معلوم ہوئے اس کی نظیر کسی نبی کی اُمت میں نہیں۔ اور عبودیت سے مراد وہ حالت انقیاد اور موافقت تامہ اور رضا اور وفا اور استقامت ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص تصرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پیدا ہوئی جس سے آپ اس راہ کی طرح ہو گئے جو صاف کیا جاتا اور نرم کیا جاتا اور سیدھا کیا جاتا ہے۔ یہ وہ نمونہ تھا جس کی پیروی سے بے شمار انسان استقامت کا ملہ تک پہنچ گئے ۔ غرض یہ دونوں کامل صفتیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں متحقق تھیں جو عام ہدایت اور قوت ایمانی اور استقامت کا موجب ہو ئیں ۔ اور جس طرح آنجناب کو مہدی اور عبد کا خدا تعالیٰ کی طرف سے لقب ملا تھا جس کی تشریح ابھی ہو چکی ہے اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کو ۱۵۰ روح اللہ کا لقب ملا۔ اور جب یہ لقب اُن کو عطا ہوا تو خدا نے ان کو اُن برکتوں سے بھر دیا جن سے دنیا کو جسمانی طور پر اُن کے انفاس سے فائدہ پہنچا اور یہ فوائد ا کثر دنیوی تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو والدین سے مادری زبان سیکھنے کا بھی موقعہ نہیں ملا کیونکہ چھ ماہ کی عمر تک دونوں فوت ہو چکے تھے پس اس واقعہ میں بھی شانِ مہدویت کا ایک راز ہے یعنی جس کو زبان سیکھنے کے لئے والدین کی تربیت بھی نصیب نہیں ہوئی اُس کی یہ فصاحت اور یہ بلاغت جس کی نظیر کسی عرب نژاد میں نہیں مل سکی ۔ یہ وہ امر ہے جس سے یہ نکتہ صاف سمجھ آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں مہدویت کی شان رکھی تھی اس لئے زبان دانی کے مرتبہ میں بھی جو انسانیت کا پہلا مرتبہ ہے کسی دوسرے کامحتاج نہیں کیا۔ منہ