ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 550

ایّام الصّلح — Page 384

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۸۴ امام الصلح ۱۳۹) ہو چکا ہے کہ یا عیسی انی متوفیک کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسی میں تجھے وفات دوں گا۔ چنانچہ امام بخاری نے اسی مقام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث لکھ کر جس میں كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِح ہے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہی معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئے ہیں۔ پھر بعد اس کے جو حضرت عیسی کی وفات کے بارے میں قرآن نے فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور عبداللہ بن عباس کے قول میں بھی یہی آیا دوسرے معنے کرنے یہودیوں کی طرح ایک خیانت ہے۔ غور کر کے دیکھ لو کہ تمام قرآن میں بجز روح قبض کرنے کے توفی کے اور کوئی معنے نہیں۔ تمام حدیثوں میں بجز مارنے کے اور کسی محل میں توفی کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ تمام لغت کی کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ جب خدا تعالیٰ فاعل ہو اور کوئی انسان مفعول به مثلاً یہ قول ہو کہ تَوَفَّى اللهُ زَيْدًا تو بجز روح قبض کرنے اور مارنے کے اور کوئی معنے نہیں لئے جاویں گے ۔ پس جب اس صراحت اور تحقیق سے فیصلہ ہو چکا کہ توفی کے معنے مارنا ہے اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى سے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسی کی توفی عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے ہو چکی ہے یعنی وہ خدا بنائے جانے سے پہلے فوت ہو چکے ہیں تو پھر اب تک اُن کی وفات کو قبول نہ کرنا یہ طریق بحث نہیں بلکہ بے حیائی کی قسم ہے۔ خدا تعالیٰ نے چونکہ ان لوگوں کو ذلیل کرنا تھا کہ جو خواہ مخواہ حضرت عیسی کی حیات کے قائل ہیں اس لئے اُس نے نہ ایک پہلو سے بلکہ بہت سے پہلوؤں سے حضرت عیسی کی موت کو ثابت کیا ۔ تو قی کے لفظ سے موت ثابت ہوئی اور پھر آیت وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ سے موت ثابت ہوئی ۔ اور پھر آیت مَا المُبِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ سے موت ثابت قرآن کے محاورہ کے رُو سے جہاں کسی اُمت پر خلت کا لفظ بولا گیا ہے وہاں اس اُمت کے لوگ مراد لی ہے تم ایک بھی ایسی آیت پیش نہ کر سکو گے جس میں کسی انسانی گروہ کو خلت کا مصداق قرآن نے ٹھہرایا ہو اور پھر اس آیت کے معنے موت نہ ہوں بلکہ کچھ اور ہوں یہی وجہ ہے جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے تمام نبیوں پر استدلال کیا ۔ منہ ال عمران : ۱۴۵ المائدة : ۷۶