ایّام الصّلح — Page 359
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۵۹ اتمام اصلح اس ملک کے شرفاء اور پردہ داروں پر یہ امر بہت کچھ گراں ہوگا کہ جس گھر میں بلاء طاعون نازل ہو تو گوایسا مریض کوئی پردہ دار جوان عورت ہی ہو تب بھی فی الفور وہ گھر والوں سے الگ کر کے ایک علیحدہ ہوادار مکان میں رکھا جائے جو اس شہر یا گاؤں کے بیماروں کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے مقرر ہو۔ اور اگر کوئی بچہ بھی ہو تو اس سے بھی یہی معاملہ کیا جائے اور باقی گھر والے بھی کسی ہوادار میدان میں چھتروں میں رکھے جائیں۔ لیکن گورنمنٹ نے یہ ہدایت بھی تو شائع کی ہے کہ اگر اس بیمار کے تعہد کے لئے ایک دو قر یہی اس کے اُسی مکان میں رہنا چاہیں تو وہ رہ سکتے ہیں۔ پس اس سے زیادہ گورنمنٹ اور کیا تدبیر کر سکتی تھی کہ چند آدمیوں کو ساتھ رہنے کی اجازت بھی دے دے اور اگر یہ شکایت ہو کہ کیوں اُس گھر سے نکالا جاتا ہے اور باہر جنگل میں رکھا جاتا ہے تو یہ ایک احمقانہ شکوہ ہے ۔ میں یقیناً اس بات کو سمجھتا ہوں کہ اگر گورنمنٹ ایسے خطرناک امراض میں مداخلت بھی نہ کرے تو خود ہر ایک انسان کا اپنا وہم وہی کام اس سے کرائے گا جس کام کو گورنمنٹ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ مثلاً ایک گھر میں جب طاعون سے مرنا شروع ہو تو دو تین موتوں کے بعد گھر والوں کو ضرور فکر پڑے گا کہ اس منحوس گھر سے جلد نکلنا چاہیے ۔ اور پھر فرض کرو کہ وہ اُس گھر سے نکل کر محلہ کے کسی اور گھر میں آباد ہوں گے اور پھر اس میں بھی یہی آفت دیکھیں گے تب ناچار اُن کو اُس شہر سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔ مگر یہ تو شرعا بھی منع ہے کہ وباء کے شہر کا آدمی کسی دوسرے شہر میں جا کر آباد ہو۔ یا به تبدیل الفاظ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا قانون بھی کسی دوسرے شہر میں جانے سے روکتا ہے۔ تو اس صورت میں بجز اس تدبیر کے جو گورنمنٹ نے پیش کی ہے کہ اُسی شہر کے کسی میدان میں وہ لوگ رکھے جائیں اور کونسی نئی اور عمدہ تدبیر ہے جو ہم نعوذ باللہ اس خوفناک وقت میں اپنی آزادگی کی حالت میں اختیار کر سکتے ہیں ۔ پس نہایت افسوس ہے کہ نیکی کے عوض بدی کی جاتی ہے اور ناحق گورنمنٹ کی ہدایتوں کو بدگمانی سے دیکھا جاتا ہے۔