ایّام الصّلح — Page 355
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۵۵ اتمام اصلح کر لئے کہ بجز حضرت عیسی اور اُن کی ماں کے اور کوئی نبی ہو یا رسول ہومش شیطان سے پاک نہیں یعنی معصوم نہیں اور آیت إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَليهِم سُلطان کو بھول گئے اور نیز آیت سَلَمُ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ کو پس پشت ڈال دیا۔ اور بات صرف اتنی تھی کہ اس حدیث میں بھی 11 یہودیوں کا ذب اور دفع اعتراض منظور تھا۔ چونکہ وہ لوگ طرح طرح کے نا گفتنی بہتان حضرت مریم اور حضرت عیسی پر لگاتے تھے اس لئے خدا کے پاک رسول نے گواہی دی کہ یہودیوں میں سے مس شیطان سے کوئی پاک نہ تھا اگر پاک تھے تو صرف حضرت عیسی اور اُن کی والدہ تھی۔ نعوذ باللہ اس حدیث کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ایک حضرت عیسی اور اُن کی والدہ ہی معصوم ہیں اور اُن کے سوا کوئی نبی ہو یا رسول ہومس شیطان سے معصوم نہیں ہے۔ ہمارے بعض نادان علماء کی جیسی یہ غلطی ہے ویسی ہی یہ غلطی بھی ہے کہ وہ رفع سے مراد جسمانی رفع سمجھ بیٹھے ہیں ۔ حالانکہ جسمانی رفع کے بارے میں کوئی بحث نہ تھی اور نہ یہ مسئلہ مُهتم بالشان ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دنیا کے کسی مذہب کے نزدیک جسمانی رفع شرط نجات نہیں ہے مگر رُوحانی رفع شرط نجات ہے اور یہودیوں کی یہ کوشش تھی کہ جو امر توریت کے رُو سے شرط نجات ہے وہ حضرت عیسیٰ کی ذات سے مسلوب ثابت کر دیا جائے یعنی یہ ثابت کیا جائے کہ وہ امران میں نہیں پایا جاتا۔ اسی غرض سے انہوں نے اپنی دانست میں صلیب دی تھی ۔ اور صلیب کا نتیجہ جو توریت میں بیان کیا گیا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ جو شخص مصلوب ہو وہ مع جسم عصری آسمان پر نہیں جاتا بلکہ یہ ہے کہ راستبازوں کی طرح اُس کی رُوح خدا کی طرف اُٹھائی نہیں جاتی۔ یہودی اب تک زندہ موجود ہیں اگر کسی کو حقیق حق منظور ہوتی تو اُن سے پوچھتا کہ تم نے صلیب دینے سے کیا نتیجہ نکالا؟ کیا یہ کہ حضرت عیسی بوجہ صلیب جسمانی طور پر آسمان پر جانے سے روکے گئے اور یا یہ کہ وہ صلیب پانے سے روحانی رفع الی اللہ سے ناکام رہے؟ کیا اس بات کا تصفیہ کچھ مشکل تھا ؟ مگر اس پر آشوب زمانے میں لاکھوں میں سے کوئی ایسا انسان ہو گا جس کے دل کو یہ بے قراری ہوگی کہ وہ حق کی تلاش کرے۔ خدا تعالیٰ کا یہ ہم بندوں پر احسان ہے کہ وہ سچائی کو ا بنی اسرائیل : ۶۶ مریم : ۱۶