ایّام الصّلح — Page 354
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۵۴ امام اصلح یعنی فرمايا يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا اے عیسی میں تجھے وفات دوں گا اور وفات کے بعد تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور تجھے اُن الزاموں سے پاک کروں گا جو تیرے پر اُن لوگوں نے لگائے جنہوں نے تیری راستبازی کو قبول نہ کیا۔ اب ظاہر ہے کہ اس جگہ رفع جسمانی کی کوئی بحث نہ تھی ۔ اور یہودیوں کے عقیدہ میں یہ ہرگز داخل نہیں کہ جس کا رفع جسمانی نہ ہو وہ نبی یا مومن نہیں ہوتا ۔ پس اس بے ہودہ قصے کے چھیڑنے کی کیا حاجت تھی ۔ خدا تعالیٰ کا کلام لغو سے پاک ہے ۔ وہ تو اُن مقدمات کا فیصلہ کرتا ہے جن کا فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ یہود نالائق نعوذ باللہ حضرت مسیح کو کافر اور کا ذب اور مفتری ٹھہراتے تھے اور کہتے تھے کہ موسیٰ اور تمام راستبازوں کی طرح اُن کو رُوحانی رفع نصیب نہیں ہوا اور کسی حد تک نصاری بھی اُن کی ہاں میں ہاں ملانے لگے تھے ۔ سوخدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ یہ دونوں فریق جھوٹے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام بے شک مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے ہیں جیسا کہ اور راستباز اٹھائے گئے۔ یہ بعینہ ایسا ہی فیصلہ ہے جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے کہ عیسی اور اُس کی ماں مس شیطان سے پاک ہیں ۔ جاہل مولویوں نے اس کے یہ معنے ہ مخالفین کی حالت پر رونا آتا ہے وہ نہیں سوچتے کہ اگر اس آیت إِلى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى سے ایک پاک موت کا بیان کرنا فرض نہیں تھا اور بجائے ملعون ہونے کے روحانی رفع کا بیان کرنا مقصود نہیں تھا تو اس قصے کو بیان کرنے کی کونسی ضرورت تھی۔ اور جسمانی رفع کے لئے کونسی دینی ضرورت پیش آئی تھی ۔ افسوس صاف اور سیدھی بات کو ناحق بگاڑتے ہیں ۔ بات تو صرف اتنی تھی کہ یہودی حضرت عیسی کو ملعون ٹھہرا کر اُن کے رفع روحانی سے منکر ہو گئے تھے ۔ اب رافِعُكَ اِلَی سے اس بات کا ظاہر کرنا مقصود تھا کہ حضرت عیسی ملعون نہیں ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف اُن کا رفع ہو گیا۔ اور توفی کے لفظ سے جس کے معنے صحیح بخاری میں مارنا کیا گیا حضرت عیسیٰ کی موت ثابت ہو گئی ۔ علاوہ اس کے خلٹ کا لفظ جہاں جہاں قرآن شریف میں انسانوں کے لئے استعمال ہوا ہے موت کے معنوں پر استعمال ہوا ہے۔ البذا آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ سے بھی حضرت عیسلے کی موت ہی ثابت ہوئی۔ اس قدر دلائل موت اور پھر انکار ۔ ہائے افسوس یہ کیا ہیں اطوار ۔ منہ ال عمران ۵۶ ال عمران: ۱۴۵