ایّام الصّلح — Page 353
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۵۳ اتمام الصلح صرف دو تین میل کے فاصلے پر مکہ سے چھپا دیا اور سب ڈھونڈنے والے ناکام اور نامراد واپس کئے تو کیا وہ حضرت مسیح کو کسی پہاڑ کی غار میں چھپا نہیں سکتا تھا اور بحجز دوسرے آسمان پر پہنچانے کے یہودیوں کی ہمت اور تلاش پر اس کو دل میں کھڑ کا تھا ؟ ماسوا اس کے کسی آیت یا حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآن شریف یا حدیث میں کہیں اور کسی مقام میں حضرت عیسی کی نسبت صعود کا لفظ بھی لکھا ہے ۔ ہاں رفع کا لفظ ہے جو توفّی کے لفظ کے بعد آیا ہے اور ہمیں قرآن اور حدیث کے بہت سے مقامات سے معلوم ہوا ہے کہ توفی کے بعد مومنوں کا رفع ہوتا ہے۔ یعنی مومن کی روح جسم کی مفارقت کے بعد رُوحانی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف بلائی جاتی ہے جیسا کہ آیت ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ ظاہر ہے۔ اور اگر چہ تمام انبیاء اور رسول اور صدیق اور اولیاء اور تمام مومنین مرنے کے بعد روحانی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف ہی اُٹھائے جاتے اور رفع کے مرتبہ سے عزت دیئے جاتے ہیں مگر قرآن شریف میں حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع کا خصوصیت کے ساتھ (۱۱۲) اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ یہودی لوگ آپ کے رفع روحانی سے سخت منکر تھے اور اب تک منکر ہیں۔ اور اُن کی حجت یہ ہے کہ یسوع یعنی عیسی علیہ السلام صلیب دیئے گئے ہیں اور توریت میں لکھا ہے کہ جو شخص صلیب دیا جائے اُس کا رفع روحانی نہیں ہوتا ۔ یعنی اس کی روح خدا تعالی کی طرف جو مقام راحت ہے اٹھائی نہیں جاتی بلکہ ملعون ٹھہرا کر نیچے کی طرف پھینکی جاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ یہودیوں کے اس اعتراض کو دور کرے اور حضرت مسیح کے رفع روحانی پر گواہی دے۔ سو اسی گواہی کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے حدیث صحیح میں حضرت عیسی کی عمر ایک سو بیس برس مقرر کر دی گئی ہے۔ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی اس عالم کو چھوڑ کر عالم اموات میں گئے اور اب تک ان لوگوں میں رہتے ہیں جو فوت ہو چکے ہیں ۔ نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں نہ سوتے ہیں اور نہ کوئی اور خاصہ اس دنیا کی زندگی کا اُن میں موجود ہے۔ سیکی نبی جو فوت ہو کر دوسرے عالم میں گیا ہے وہ بھی ان کے ساتھ ہی ہے۔ منہ الفجر : ٢٩