ایّام الصّلح — Page 347
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۴۷ امام الصلح کی وجہ سے ہوتا ہے اور ایسا ہی ہمیشہ ہوگا۔ اگر خدا تعالیٰ کی نظر میں لوگ شوخ طبع اور متکبر اور ظالم اور بے خوف اور مردم آزار ہوں گے خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ ہند و خواہ عیسائی عذاب سے بیچ نہیں سکیں گے۔ کاش لوگ اس بات کو سمجھیں اور غریب مزاج اور بے شر انسان بن جائیں۔ خدا تعالیٰ کسی کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر وہ اُس سے ڈرتے رہیں۔ خدا تعالیٰ کے تمام نبی رحمت کے لئے آئے (110) اور جس نے رحمت کو قبول نہ کیا اُس نے عذاب مانگا۔ ہر پاک نبی جو دنیا میں آیا وہ رحمت کا پیغام لے کر آیا اور عذاب خدا سے نہیں بلکہ لوگوں نے اپنی کرتوتوں سے آپ پیدا کیا۔ ہاں وہ بچوں کے لئے ایک علامت بھی ٹھہر گئے کہ اُن کے آنے کے ساتھ ایک عذاب بھی آتا رہا ہے اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ میں نے طاعون کے علاج کے لئے ایک مرہم بھی طیار کی ہے یہ ایک پرانا نسخہ ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت سے چلا آتا ہے اور اس کا نام مرہم عیسی ہے اگر چہ امتداد زمانہ کے سبب سے بعض دواؤں میں تبدیلی ہو گئی ہے یعنی طلب کی بہت سی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طبیب نے کوئی دوا اس نسخہ میں داخل کی ہے اور دوسرے نے بجائے اس کے کوئی اور داخل کر دی ہے۔ لیکن یہ تغیر صرف ایک دو دواؤں میں ہوا ہے اس کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک دو اہر ایک ملک میں پائی نہیں جاتی یا کم پائی جاتی ہے یا بعض موسموں میں پائی نہیں جاتی۔ سو جس جگہ یہ اتفاق ہوا کہ ایک دوا مل نہیں سکی تو کسی طبیب نے اُس کا بدل کوئی اور دوا ڈال دی اور در حقیقت قرابادینوں کے تمام مرکبات میں جو بعض جگہ اختلاف نسخوں کا پایا جاتا ہے اس کا یہی سبب ہے مگر ہم نے بڑی کوشش سے اصل نسخہ طیار کیا ہے۔ اس مرکب کا نام مرہم عیسی ہے اور مرہم حوار بین بھی اسے کہتے ہیں اور مرہم الرسل بھی اس کا نام ہے کیونکہ عیسائی لوگ حواریوں کو مسیح کے رسول یعنی اینچی کہتے تھے کیونکہ اُن کو جس جگہ جانے کے لئے حکم دیا جاتا تھا وہ اینچی کی طرح جاتے تھے۔ یہ نہایت عجیب بات ہے کہ جیسا کہ یہ نسخہ طب کے تمام نسخوں سے قدیم اور پر انا ثابت ہوا ہے ایسا ہی اسی وجہ سے حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت میں ملک میں طاعون بھی پھوٹے گی ۔منہ