ایّام الصّلح — Page 346
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۴۶ امام الصلح اب پھر ہم کلام سابق کی طرف عود کر کے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے ہمدردی خلائق کے لئے دو مرتب دوائیں طاعون کے علاج کی طیار کی ہیں۔ ایک وہ دوا ہے جس پر دو ہزار پانچھو روپیہ خرچ آیا ۲۵۰۰ (۱۰۹) ہے جس میں سے دو ہزار روپیہ کے یاقوت رمانی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب نے عنایت فرمائے ہیں اور چار سو روپیہ شیخ رحمت اللہ صاحب نے دیا ہے اور سو روپیہ اور متفرق دوستوں کی طرف سے ہے۔ اس دوا کا نام تریاق الہی رکھا گیا ہے۔ یہ اس وقت کام آ سکتی ہے کہ جب خدانخواستہ پھر جاڑے کی موسم میں طاعون پھیلے۔ ابھی ہم بیان نہیں کر سکتے کہ یہ گراں قیمت دوا جس پر اڑھائی ہزار روپیہ خرچ آیا ہے کن لوگوں کو دی جائے گی اور کیا یہ فروخت بھی ہوسکتی ہے یا نہیں۔ دوا قلیل ہے اور جماعت بہت ہے۔ دل تو چاہتا ہے کہ عام لوگ اس تریاق الہی سے نئی زندگی حاصل کریں مگر گنجائش نہیں ہے۔ مجھے ایک الہام میں یہ فقرات القا ہوئے تھے کہ يَا مَسِيحَ الْخَلْقِ عَدْوَانَا۔ میرے خیال میں ہے کہ عدومی سے مراد یہی طاعون ہے۔ اگر میں اس الہام کے معنے کرنے میں غلطی نہیں کرتا جس میں یہ لکھا ہے کہ انهُ أَوَى القَرْيَةَ تو کیا تعجب ہے کہ کسی عام زور طاعون کے وقت میں قادیان دارالامن رہے۔ میں ہمیشہ اور پنج وقتہ نماز میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا اس بلا کو دنیا سے اٹھا دے اور اپنے بندوں کی تقصیریں معاف کرے مگر پھر بھی مجھے ان الہامات کے لحاظ سے جو ظاہر کر چکا ہوں اس حالت میں کہ لوگ تو بہ نہ کریں سخت اندیشہ ہے کہ یہ آگ جاڑے کے موسم میں یا اس کے ابتدا میں ہی یا برسات کے موسم میں ہی بھڑک نہ اُٹھے ۔ یادر ہے کہ کفر اور ایمان کا فیصلہ تو مرنے کے بعد ہو گا اس کے لئے دنیا میں کوئی عذاب نازل نہیں ہوتا اور جو پہلی اُمتیں ہلاک کی گئیں وہ کفر کے لئے نہیں بلکہ اپنی شوخیوں اور شرارتوں اور ظالموں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ۔ فرعون بھی اپنے کفر کے باعث سے ہلاک نہیں ہوا بلکہ اپنے ظلم اور زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہوا۔ محض کفر کے سبب سے اس دنیا میں کسی پر عذاب نازل نہیں ہوتا ۔ اگر کوئی کا فر ہو مگر غریب مزاج اور آہستہ رو ہو اور ظالم نہ ہو تو اس کے کفر کا حساب قیامت کے دن ہو گا ۔ اس دنیا میں ہر ایک عذاب ظلم اور بدکاری اور شوخیوں اور شرارتوں