ایّام الصّلح — Page 345
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۴۵ اتمام اصلح لہذا اُن کو ماننا پڑا کہ یہود اور نصاری کے معنے صحیح نہیں ہیں۔ اسی جہت سے صد ہا یہودی اور عیسائی مسلمان ہوئے اور جو معنے دو ہزار برس سے متفق علیہ چلے آتے تھے وہ چھوڑ دیئے۔ اب ان دونوں نظیروں سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جب ایک قوم اور مامورمن اللہ میں کسی ۱۰۸ الہی کتاب کے معنے کرنے میں اختلاف پیدا ہو تو وہی معنے قبول کے لائق ہوں گے جو اس مامور من اللہ نے کئے ہیں گو بظاہر وہ ضعیف اور دور از قیاس ہی معلوم ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ انجیل اور توریت کے اکثر مقامات کے وہ معنے نہیں کرتے جو نصاری اور یہود نے کئے ہیں اور ہم بہر حال اُن معنوں کو قبول کریں گے جو قرآن نے کئے ہیں اور جبکہ یہ اصول متحقق ہو گیا تو اب دیکھنا چاہیے کہ اگر ہمارے مخالف علماء میں دیانت اور انصاف کا مادہ ہوتا تو اس صورت میں کہ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور اپنے دعوے کی تائید میں بعض احادیث یا قرآنی آیتوں کے وہ معنی کرتا تھا جو میرے مخالف نہیں کرتے۔ خدا ترس لوگوں کو لازم تھا کہ وہ اس اختلاف کے وقت بفرض محال اگر میرے معنی اُن کی نظروں میں کمزور تھے تو وہ مجھ سے اسی طریق معہود سے تصفیہ کرتے جیسا کہ پہلے راستباز آدمی ایسے وقتوں میں تصفیہ کرتے رہے ہیں۔ یعنی صرف یہ تحقیق کرتے کہ آیا یہ شخص مؤید من اللہ ہے یا نہیں۔ لیکن افسوس کہ انہوں نے یہ طریق میرے ساتھ مسلوک نہیں رکھا۔ حالانکہ اگر اُن میں انصاف ہوتا تو ایمانداری کے رُو سے اس طریق کا اختیار کرنا اُن پر لازم تھا۔ اور عجب تریہ کہ جس پہلو کو عبارات کے معنوں میں ہم نے اختیار کیا ہے وہ نہایت صحیح اور معقولی طور پر بھی قرین قیاس ہے۔ مگر پھر بھی ہمارے مخالفوں نے ان معنوں سے منہ پھیر لیا۔ حالانکہ اُن کا یہ فرض تھا کہ اگر ہمارے معنے اُن کے معنوں کے مقابل ضعیف بھی ہوتے تب بھی تائید الہی کے ثبوت کے بعد اُن ہی معنوں کو قبول کر لیتے ۔ اب بتلاؤ کہ کیا یہ طریق تقویٰ ہے جو انہوں نے اختیار کیا۔ سوچ کر دیکھو کہ جب ایسے اختلافات نبیوں اور دوسری قوموں میں ہوئے ہیں تو سعید لوگوں نے کس طریق کو اختیار کیا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ انہوں نے بہر حال وہ معنے قبول کئے جو نبیوں کے منہ سے نکلے۔