ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 550

ایّام الصّلح — Page 332

۹۵ روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۳۲ اتمام اصلح اس طرح پر کہ طاعون کے دنوں میں مکانوں اور کوچوں اور بدر روؤں اور کپڑوں اور بستروں اور بدنوں کو ہر ایک پلیدی سے محفوظ رکھا جائے اور ان تمام چیزوں کو عفونت سے بچایا جائے۔ شریعت اسلام نے جو نہایت درجے پر ان صفائیوں کا تقید کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا۔ وَالرُّجْزَ فَاهْجُز لے یعنی ہر ایک پلیدی سے جدا رہ یہ احکام اسی لئے ہیں کہ تا انسان حفظانِ صحت کے اسباب کی رعایت رکھ کر اپنے تئیں جسمانی بلاؤں سے بچاوے۔ عیسائیوں کا یہ اعتراض ہے کہ یہ کیسے احکام ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتے کہ قرآن کہتا ہے کہ تم غسل کر کے اپنے بدنوں کو پاک رکھو اور مسواک کرو ،خلال کرو اور ہر ایک جسمانی پلیدی سے اپنے تئیں اور اپنے گھر کو بچاؤ۔ اور بد بوؤں سے دُور رہو اور مُر دار اور گندی چیزوں کومت کھاؤ۔ اس کا جواب یہی ہے کہ قرآن نے اُس زمانہ میں عرب کے لوگوں کو ایسا ہی پایا تھا اور وہ لوگ نہ صرف روحانی پہلو کے رُو سے خطر ناک حالت میں تھے بلکہ جسمانی پہلو کے رُو سے بھی اُن کی صحت نہایت خطرہ میں تھی۔ سو یہ خدا تعالیٰ کا اُن پر اور تمام دنیا پر احسان تھا کہ حفظان صحت کے قواعد مقرر فرمائے۔ یہاں تک کہ یہ بھی فرما دیا کہ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا یعنی بے شک کھاؤ پیو مگر کھانے پینے میں بے جا طور پر کوئی زیادت کیفیت یا کمیت کی مت کرو۔ افسوس پادری اس بات کو نہیں جانتے کہ جو شخص جسمانی پاکیزگی کی رعایت کو بالکل چھوڑ دیتا ہے وه رفته رفتہ وحشیانہ حالت میں گر کر روحانی پاکیزگی سے بھی بے نصیب رہ جاتا ہے۔ مثلاً چند روز دانتوں کا خلال کرنا چھوڑ دو جو ایک ادنی صفائی کے درجہ پر ہے تو وہ فضلات جو دانتوں میں پھنسے رہیں گے اُن میں سے مُردار کی بُو آئے گی ۔ آخر دانت خراب ہو جائیں گے اور اُن کا زہریلا اثر معدہ پر گر کر معدہ بھی فاسد ہو جائے گا۔ خود غور کر کے دیکھو کہ جب دانتوں کے اندر کسی بوٹی کا رگ وریشہ یا کوئی جو پھنسا رہ جاتا ہے اور اُسی وقت خلال کے ساتھ نکالا نہیں جاتا تو ایک رات بھی اگر رہ جائے تو سخت بد بو اُس میں پیدا ہو جاتی ہے اور ایسی بدبُو آتی ہے جیسا کہ چو ہا مرا ہوا ہوتا ہے ۔ پس یہ کیسی نادانی ہے کہ ظاہری اور جسمانی پاکیزگی پر اعتراض کیا جائے اور یہ تعلیم دی جائے المدثر : ٦ الاعراف : ٣٢