ایّام الصّلح — Page 324
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۲۴ اتمام الصلح ان اقوال کے مخالف ہیں ۔ الآ إِنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ وَالْمُفْتَرِينَ !! یادر ہے کہ ہم میں اور ان لوگوں میں بجز اس ایک مسئلہ کے اور کوئی مخالفت نہیں۔ یعنی یہ کہ یہ لوگ نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کو چھوڑ کر حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات کے قائل ہیں اور ہم بموجب نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ متذکرہ بالا کے اور اجماع ائمہ اہل بصارت کے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں اور نزول سے مراد وہی معنے لیتے ہیں جو اس سے پہلے حضرت ایلیا نبی کے دوبارہ آنے اور نازل ہونے کے بارے میں حضرت عیسی علیہ السلام نے معنے کئے تھے ۔ فَسْتَلُوا أَهْلَ الذكر ان كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ اور ہم بموجب نص صریح قرآن شریف کے جو آیت فَيُمْسِكُ التِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ سے ظاہر ہوتی ہے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو لوگ اس دنیا سے گزر جاتے ہیں پھر وہ دنیا میں دوبارہ آباد ہونے کے لئے نہیں بھیجے جاتے اس لئے خدا نے بھی اُن کے لئے قرآن شریف میں مسائل نہیں لکھے کہ دوبارہ آکر مال تقسیم شدہ ان کا کیونکران کو ملے ۔ افسوس کہ ہمارے مخالف اب تک کہے جاتے ہیں کہ " حضرت عیسی آسمانوں پر زندہ ہیں اور اُس وقت آئیں گے کہ جب عیسائی مذہب تمام روئے زمین سے اسلام کو نابود کر دے گا اور کہتے ہیں کہ اگر چہ اب تک کروڑ ہا کتا ہیں اسلام کے رڈ میں لکھی گئیں اور کئی لاکھ آدمی مرتد ہو گئے اور کئی کروڑ انسان بے قید اور بد خیال اور ناپار سا طبع ہو گیا مگر ابھی تک اسلام بکلی نابود تو نہیں ہوا اس لئے حضرت عیسیٰ بھی اس صدی کے سر پر نہ آ سکے کیونکہ وہ آسمان پر بیٹھے اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب پورے طور پر اسلام دنیا سے نابود ہوتا ہے۔ لیکن ان خیالات کے حامیوں کو سب سے پہلے اس بات پر غور کرنی چاہیئے کہ خدا نے صریح لفظوں میں حضرت عیسی کی وفات کو قرآن کریم میں ظاہر فرما دیا ہے۔ دیکھو کیسی یہ آیت یعنی فَلَمَا تَو فیتنی حضرت عیسی کی وفات پر نص صریح ہے اور اب اس آیت کے سننے کے بعد اگر کوئی حضرت عیسی کی وفات سے انکار کرتا ہے تو اُسے مانا پڑتا ہے کہ عیسائی اپنے عقائد میں حق پر ہیں کیونکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ عیسائی لوگ حضرت عیسی کی وفات کے بعد بگڑیں گے۔ پھر جب الانبياء: ۸ الزمر : ۴۳