ایّام الصّلح — Page 319
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۱۹ اتمام اصلح اباطیل اور اکاذیب شائع کر کے بجائے علم اور حکمت کے حمق اور جہالت کو اسلام میں پھیلایا ہے۔ کوئی ان لوگوں کو نہیں پوچھتا کہ اسے نیک بختو! آب تو حضرت مسیح کے دنیا سے جانے پر دو ہزار برس بھی ہونے لگے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو تیرہ سو برس گذر کر چودھویں صدی میں سے بھی چودہ برس گزر گئے ۔ کیا اب تک مسیح موعود اور مہدی معہود کی پیشگوئیاں آگے ہی آگے چلی جاتی ہیں؟ مولویوں کی اس حاسدانہ تکذیب اور تکفیر نے جو ہماری نسبت کی گئی اس امر کو پورے طور پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ در حقیقت تقویٰ اور خدا ترسی سے خالی تھے کیونکہ خد اتعالیٰ متقی کو ہرگز ضائع نہیں کرتا اور گمراہ ہونے نہیں دیتا۔ ایک بڑے افسوس کے لائق ذکر یہ ہے کہ جیسے ایک مسافر وبا کا اثر اپنے ساتھ لے کر اوروں کو بھی اندیشہ ہلاکت میں ڈالتا ہے اسی طرح ہمارے علماء کا بھی یہی حال ہے۔ ایک شخص بہت سے اسباب حقد اور کینہ کی وجہ سے تکفیر اور تکذیب اور سب اور شتم پر آمادہ ہوتا ہے اور دوسرا آنکھ بند کر کے اُس کی باتیں سنتا اور اس کی اکاذیب سے متاثر ہو کر ایسا ہی ایک زہر دار جان دار بن جاتا ہے جیسا کہ پہلا شخص تھا۔ اور اس طرح ایک وبا کی طرح ایک سے دوسرے تک یہ مرض پہنچتا ہے یہاں تک کہ لوگ اپنے تمام ایمان اور تقویٰ کو الوداع کہہ کر شخص مفسد کے پیچھے ہو لیتے ہیں اور جیسا کہ آجکل دریافت کیا گیا ہے کہ مادہ وباء طاعون دراصل کیڑے ہیں جو زمین میں پیدا ہوتے ہیں اور پھر پیروں کے ذریعہ سے انسان کے خون سے ملتے ہیں ۔ ایسا ہی سچائی سے اعراض کرنے کی وبا جو آجکل پھیل رہی ہے اس کا موجب بھی کیڑے ہی معلوم ہوتے ہیں جو مختلف ناموں حسد یا حمق یا تعصب یا رکبیر سے موسوم ہو سکتے ہیں۔ جس قدر اسلام میں عیسائی مذہب کے باطل عقیدوں نے دخل پایا ہے وہ دخل بھی در حقیقت ان ہی وجوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اندرونی فساد ترک تقوی اور جہل اور نادانی کا اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ بوجہ مناسبت صوری طبائع فاسدہ ایسے عقائد اور طریقوں کو قبول کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیار تھیں ۔ چونکہ ہر ایک شخص کی حالت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اس لئے ہم اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ جن لوگوں نے