ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 550

ایّام الصّلح — Page 316

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۱۶ امام الصلح وقت نہیں پہنچا کہ خدا کی نظر گم گشتہ انسانوں کو رحم کی نظر سے دیکھے اور صلیبی حملوں کی کسر میں مشغول ہو؟ کیا اسی غرض سے چودھویں صدی کے سر کی انتظار نہیں تھی؟ سچ کہو عام مسلمانوں کا کانشنس بموجب قول مشہور زبان خلق نقارہ خدا چودھویں صدی کی نسبت کیا بول رہا تھا؟ سو بھائیو آوا خدا سے صلح کروا کچی پر ہیز گاری سے کام لو۔ آسمان اپنے غیر معمولی سماوی حوادث سے ڈرا رہا ہے۔ زمین بیماریوں سے انذار کر رہی ہے۔ مبارک وہ جو سمجھے ۔ اور یہ عذر جس کو ہمارے کو تاہ اندیش علماء بار بار پیش کیا کرتے ہیں کہ مسیح کا آسمان سے نازل ہونا اور منارہ دمشقی کے قریب اترنا ضروری ہے۔ یہ ان دلائل اور نشانوں اور ثابت شدہ واقعات کے مقابل پر جو اس کتاب میں لکھے گئے ہیں ایسی فضول بات اور کچا خیال ہے جس پر ایک عقلمند نہایت افسوس کے ساتھ تعجب کرے گا۔ افسوس ان لوگوں کو اب تک یہ خیال نہیں آیا کہ ایسی عبارتیں کہ جو محکمات اور بینات کے مقابل میں پڑے ہیں واجب التاویل ہیں۔ کیا خدا کا کلام نعوذ باللہ اختلافات اور تناقضات کا مجموعہ ہے؟ بلکہ اگر خدا تعالیٰ کا خوف ہے تو ایسی عبارتوں کے جس طور سے چاہو معنے کر سکتے ہو پھر کیا ضرور کہ ان حدیثوں کے ایسے معنے کئے جائیں جو ثابت شدہ نشانوں اور بینات کے مقابل پر پڑیں۔ قرآن شریف میں آیت قَدْ نَزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُوْلًا میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نازل ہی لکھا گیا ہے مگر کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت آسمان سے نازل ہوئے تھے ؟ سو اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو اور تناقض کو درمیان سے اٹھاؤ۔ ایسی عبارتوں کی بہت سادہ طور پر توجیہ ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود د مشق کے مشرقی طرف خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوگا اور اس میں کیا شک ہے کہ قادیاں دمشق کی مشرقی طرف ہے اور ایسا ہی کئی اور تو جیہیں ہو سکتی ہیں جو واقعات ثابت شدہ کے منافی نہیں ہیں۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ بعض اقوال صحابہ میں نزول کے ساتھ الہی کا لفظ آیا ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف کے لئے مستعمل ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ جس حالت میں استعارہ کے طور پر خدا تعالیٰ کے ماموروں کی نسبت تو ریت اور انجیل اور قرآن میں یہ محاورہ آ گیا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوتے ہیں تو اس صورت میں استعارہ الطلاق: ۱۲۱۱