ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 550

ایّام الصّلح — Page 303

روحانی خزائن جلد ۱۴ ٣٠٣ امام الصلح ہیں جن کے ذریعہ سے توریت کی پیشگوئی کمال وضاحت سے پوری ہوگئی۔ کیونکہ جب یہودی ایمان لائے تو اُن میں سے بڑے بڑے بادشاہ ہوئے یہ اس بات پر دلیل واضح ہے کہ خدا تعالی نے اسلام (19) لانے سے اُن کا گناہ بخشا اور اُن پر رحم کیا جیسا کہ توریت میں وعدہ تھا۔ بقیه حاشیه پھر ہم اپنی پہلی کلام کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ مسیح موعود کے لئے قرآن شریف میں صرف وہی پیشگوئی نہیں جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں بلکہ ایک اور پیشنگوئی ہے جو بڑی وضاحت سے آنے والے مسیح کی ایمان لائے تو اسی زمانہ میں حکومت اور امارت اور آزادی اُن کومل گئی اور پھر کچھ دنوں کے بعد وہ لوگ بہ برکت قبول اسلام روئے زمین کے بادشاہ ہو گئے اور وہ شوکت اور حکومت اور امارت اور بادشاہت ان کو حاصل ہوئی جو حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے بھی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ افغانوں کا عروج جو بنی اسرائیل ہیں شہاب الدین غوری کے وقت سے شروع ہوا۔ اور جب بہلول لودی افغان تخت نشین ہوا تب ہندوستان میں عام طور پر افغانوں کی امارت اور حکومت کی بنیاد پڑی۔ اور یہ افغان بادشاہ یعنی بہلول بہت حریص تھا کہ ہندوستان میں افغانوں کی حکومت اور امارت پھیلا دے اور ان کو صاحب املاک اور جا گیر کرے اس لئے اس نے اپنی سلطنت میں جوق جوق افغان طلب کر کے ان کو عہدے اور حکومت اور بڑے بڑے املاک عطا کئے اور جب تک کہ ہندوستان کی سلطنت بہلول اور شیر شاہ افغان سوری کے خاندان میں رہی تب تک افغانوں کی آبادی اور اُن کی دولت اور طاقت بڑی ترقی میں رہی یہاں تک کہ یہ لوگ امارت اور حکومت میں اعلیٰ درجہ تک پہنچ گئے ۔ افغانوں کی سلطنت اور اقبال اور دولت کے تصور کے وقت احمد شاہ ابدالی سدوزئی کے اقبال پر بھی ایک نظر ڈالنی چاہئیے ۔ جو افغانوں میں سے ایک زبر دست بادشاہ ہوا ہے اور پھر تیمور شاہ سدوزئی اور شاہ زمان اور شجاع الملک اور شاہ محمود اور امیر دوست محمد خان اور امیر شیر علی خان ہوئے۔ اور اب بھی والی ملک کابل افغان ہے۔ جو اس ملک کا بادشاہ کہلاتا ہے یعنی امیر عبدالرحمن۔ ان تمام واقعات سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل کو جو دوبارہ آزادی اور شوکت اور سلطنت کا وعدہ دیا گیا تھاوہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد آخر پورا ہو گیا۔ اس سے توریت کی سچائی پر ایک قوی دلیل پیدا ہوتی ہے کہ کیونکر ۷۰ توریت کے وہ تمام وعدے بڑی قوت اور شان کے ساتھ انجام کار پورے ہو گئے اور اس جگہ سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ وہ نبی جو بنی اسرائیل کی دوبارہ مصیبتوں کے وقت منجی ٹھہرایا گیا تھا وہ سید نامحمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ ہاں جس طرح پر حضرت موسی علیہ السلام نے صرف راہ میں بنی اسرائیل کو چھوڑ کر وفات پائی اور قوم اسرائیل کو ان کے بعد سلطنت ملی اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جیسے جیسے بنی اسرائیل اسلام میں داخل ہوتے گئے حکومت اور امارت اُن کو ملتی گئی یہاں تک کہ آخر کار دنیا کے بڑے بڑے حصوں کے بادشاہ ہو گئے۔ منہ