ایّام الصّلح — Page 302
روحانی خزائن جلد ۱۴ ایام الصلح بادشاہت مسلسل کئی صدیوں سے چلی آتی ہے۔ اب جبکہ یہودیوں کی کتب مقدسہ میں نہایت صفائی سے بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ کی مانند ایک منجی ان کے لئے بھیجا جائے گا یعنی وہ ایسے وقت میں آئے گا ۶۷ کہ جب قوم یہود فرعون کے زمانہ کی طرح سخت ذلت اور دُکھ میں ہوگی ۔ اور پھر اُس منجی پر ایمان لانے سے وہ تمام دکھوں اور ذلتوں سے رہائی پائیں گے تو کچھ شک نہیں کہ یہ پیشگوئی جس کی طرف ۶۸ یہود کی ہر زمانہ میں آنکھیں لگی رہی ہیں وہ ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم خطرات کے بجز خدا تعالیٰ کے واقف ہو سکتا ہے۔ پھر یورپ جو عیسائیوں کے لئے عیسائیت کی زندگی کا ایک کھلا کھلا نمونہ ہے جو کچھ ظاہر کر رہا ہے اس کے بیان کی حاجت نہیں۔ ہم محض اس قوم کی معصومانہ زندگی قبول کر سکتے ہیں جس کے بعض افراد معصومانہ زندگی کے نشان اپنے ساتھ رکھتے ہوں اور راستبازوں کے برکات ان میں پائے جاتے ہوں۔ سو یہ قوم تو اسلام ہے جس کی راستبازی کے انوار کسی زمانہ میں کم نہیں ہوئے۔ ور نہ صرف دعوی دلیل کا کام نہیں دے سکتا ما سوا اس کے یہ دعویٰ کہ گناہوں کا منجی کسی دوسرے زمانہ میں آنے والا تھا اس وجہ سے بھی نا معقول ہے کہ اگر ایسا نجی بھیجنا منظور تھا تو موسیٰ کے وقت میں ہی اس کی ضرورت تھی کیونکہ بنی اسرائیل طرح طرح کے گناہوں میں غرق تھے۔ یہاں تک کہ بُت پرستی کر کے گناہوں کی معافی کے محتاج تھے۔ پس یہ کس قدر غیر معقول بات ہے کہ گناہ تو اُسی وقت بکثرت ہوں یہاں تک کہ گوسالہ پرستی بقیه حاشیه ۱۴۰۰ تک نوبت پہنچی اور گناہوں سے نجات دینے والا چودہ سو برس بعد آوے جبکہ کروڑ ہا انسان ان ہی گناہوں کی وجہ سے داخل جہنم ہو چکے ہوں۔ ایسے ضیعف اور بودے خیال کو کون قبول کر سکتا ہے اور اس کے مقابل پر یہ کس قد رصاف بات ہے کہ اس منجی سے مراد بلاؤں سے نجات دینے والا تھا اور وہ در حقیقت ایسے وقت میں آیا کہ جب کہ یہودیوں پر چاروں طرف سے بلائیں محیط ہو گئی تھیں۔ کئی دفعہ غیر قوموں کے بادشاہ ان کو گرفتار کر کے لے گئے۔ کئی دفعہ غلام بنائے گئے اور دو دفعہ ان کی ہیکل مسمار کی گئی۔ ہمارے معنوں کے رُو سے زمانہ ثبوت دیتا ہے کہ در حقیقت بلاؤں سے نجات دینے والا ایسے وقت آنا چاہیئے تھا جس وقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے ۔ مگر اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یسوع جو ہیر ودوس کے زمانہ میں پیدا ہوا وہی زمانہ گناہوں کے منجی کے بھیجنے کا زمانہ تھا۔ تا گنا ہوں سے نجات بخشے ۔ غرض روحانی منجی ہونا ایسی بات ہے کہ محض تکلف اور بناوٹ سے بنائی گئی ہے۔ یہودی جس حالت کے لئے اب تک روتے ہیں وہ یہی ہے کہ کوئی ایسا منجی پیدا ہو جو اُن کو دوسری حکومتوں سے آزادی بخشے۔ کبھی کسی یہودی کے خواب میں بھی نہیں آیا کہ روحانی منجی آئے گا اور نہ توریت کا یہ منشا ہے۔ توریت تو صاف کہہ رہی ہے کہ آخری دنوں میں پھر بنی اسرائیل پر مصیبتیں پڑیں گی اور اُن کی حکومت اور آزادی جاتی رہے گی پھر ایک نبی کی معرفت خدا اس حکومت اور آزادی کو دوبارہ بحال کرے گا۔ سو یہ پیشگوئی بڑے زور وشور اور وضاحت کے ساتھ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل سے پوری ہو گئی کیونکہ جب یہود لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر