ایّام الصّلح — Page 301
روحانی خزائن جلد ۱۴ تیام اصلح کہ تمام کشمیری بھی دراصل یہودی ہیں اور اُن میں بھی ایک بادشاہ گذرا ہے اور افغانوں کی (۲۶) بقیه حاشیه لا حاشیه در حاشیه ہیں۔ پھر جبکہ افغانوں کی قوم کے اسرائیلی ہونے میں اتنے قرائن موجود ہیں اور خود وہ تعامل کے طور پر اپنے باپ دادوں سے سنتے آئے ہیں کہ وہ قوم اسرائیلی ہیں اور یہ باتیں ان کی قوم میں واقعات شہرت یافتہ ہیں تو سخت نا انصافی ہوگی کہ ہم محض تحکم کے طور سے اُن کے ان بیانات سے انکار کریں۔ ذرا یہ تو سوچنا چاہیے کہ ان کے دلائل کے مقابلہ پر ہمارے ہاتھ میں انکار کی کیا دلیل ہے؟ یہ ایک قانونی مسئلہ ہے کہ ہر ایک پرانی دستاویز جو چالیس برس سے زیادہ کی ہو وہ اپنی صحت کا آپ ثبوت ہوتی ہے پھر جبکہ صد ہا سال سے دوسری قوموں کی طرح جو اپنی اپنی اصلیت بیان کرتی ہیں افغان لوگ اپنی اصلیت قوم اسرائیل قرار دیتے ہیں تو ہم کیوں جھگڑا کریں اور کیا وجہ کہ ہم قبول نہ کریں؟ یادر ہے کہ یہ ایک دو کا بیان نہیں یہ ایک قوم کا بیان ہے جو لاکھوں انسانوں کا مجموعہ ہے اور پشت بعد پشت کے گواہی دیتے چلے آئے ہیں۔ اب جبکہ یہ بات فیصلہ پا چکی کہ تمام افغان در حقیقت بنی اسرائیل ہیں تو اب یہ دوسرا امر ظاہر کرنا باقی رہا کہ پیشگوئی تو ریت استناباب ۱۸ آیت ۱۵ سے ۱۹ تک کی افغانی سلطنت سے بکمال وضاحت پوری ہوگئی۔ یہ پیشگوئی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا نے یہ مقدر کیا ہے کہ موسیٰ کی طرح دنیا میں ایک اور نبی آئے گا۔ یعنی ایسے وقت میں جب کہ پھر بنی اسرائیل فرعون کے زمانہ کی مانند طرح طرح کی ذلتوں اور دکھوں میں ہوں گے اور وہ نبی ان کو جو اس پر ایمان لائیں گے اُن دُکھوں اور بلاؤں سے نجات دے گا۔ اور جس طرح موسیٰ پر ایمان لانے سے بنی اسرائیل نے نہ صرف دکھوں سے نجات پائی بلکہ ان میں سے بادشاہ بھی ہو گئے ایسا ہی ان اسرائیلیوں کا انجام ہو گا جو اس نبی پر ایمان لائیں گے یعنی آخر ان کو بھی بادشاہی ملے گی اور ملکوں کے حکمران ہو جائیں گے۔ اس پیشگوئی کو عیسائیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام پر لگانا چاہا تھا جس میں وہ نا کام رہے کیونکہ وہ لوگ اس مماثلت کا کچھ ثبوت نہ دے سکے۔ اور یہ تو ان کے دل کا ایک خیالی پلاؤ ہے کہ یسوع نے گناہوں سے نجات دی۔ کیا یورپ کے لوگ جو عیسائی ہو گئے ہر ایک قسم کی بدکاری اور زنا کاری اور شراب خواری سے سخت متنفر اور موعد انہ زندگی بسر کرتے ہیں؟ ہم نے تو یورپ دیکھا نہیں۔ جنہوں نے دیکھا ہے اُن سے پوچھنا چاہیے کہ یورپ کی کیا حالت ہے؟ ہم نے تو یہ سنا ہے کہ علاوہ اور باتوں کے ایک لندن میں ہی شراب خواری کی یہ کثرت ہے کہ اگر شراب کی دوکانیں سیدھے خط میں لگائی جائیں تو تخمین سٹر میل تک اُن کا طول ہوسکتا ہے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ اول تو گناہوں سے نجات پانا ایک ایسا امر ہے جو آنکھوں سے چھپا ہوا ہے کون کسی کے اندرونی حالات اور ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ حضرت عیسی نے دوسرے نبیوں کی طرح حتی الوسع قوم کے بعض لوگوں کی اصلاح کی ۔ مگر اصلاح کرنا اُن سے کچھ خاص نہیں تمام نبی اصلاح کے لئے ہی آتے ہیں نہ فساد پھیلانے کے لئے ۔ ہاں مغفرت کا چشمہ اُن ہی کی ذات کا ہونا اور انسان کی حق تلفیاں ہوں یا خدا کی ۔ سب اُن کے طفیل بخشے جانا یہ صرف ایک بیہودہ دعوی ہے جو علاوہ عدم ثبوت قانونِ قدرت کے بھی برخلاف ہے ۔ منہ