ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 550

ایّام الصّلح — Page 297

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۹۷ اتمام اصلح اور اخیر میں اس گروہ کے ذکر سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں اس گروہ کا غلبہ ہو گا جن کے ساتھ نَفَّاثَاتِ فِی العُقد ہوں گی ۔ یعنی ایسی عیسائی عورتیں جو گھروں میں پھر کر کوشش کریں گی کہ عورتوں کو خاوندوں سے علیحدہ کریں اور عقد نکاح کو توڑیں ۔خوب یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تینوں سورتیں قرآن شریف کی دجالی زمانہ کی خبر دے رہی ہیں اور حکم ہے کہ اس زمانہ سے خدا کی پناہ مانگو تا اس شر سے محفوظ رہو ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شرور صرف آسمانی انوار اور برکات سے دور ہوں گے جن کو آسمانی مسیح اپنے ساتھ لائے گا۔ غرض یہ نہایت عجیب بات ہے کہ جیسے ایک مسیح یعنی محض روحانی طاقت سے دین کو قائم کرنے والا اور محض روح القدس سے یقین اور ایمان کو پھیلانے والا موسوی سلسلہ کے آخر میں آیا ایسا ہی اور اسی مدت کی مانند مثیل موسیٰ کے سلسلہ خلافت کے آخر میں آیا۔ اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ نے یہودیوں کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی اور نہ صرف نجات بلکہ ایمان لانے کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ یہودی قوم کو (۶۳) سلطنت اور بادشاہی بھی مل گئی۔ اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں آئے کہ جب یہودی لوگ سخت ذلت میں پڑے ہوئے تھے۔ اور آپ نے جیسا کہ دوسرے ایمان لانے والوں پر آزادی اور نجات کا دروازہ کھولا اور کفار کے ظلم اور تعدی سے چھڑایا اور آخر خلافت اور بادشاہت اور حکومتے تک پہنچایا۔ ایسا ہی یہودیوں پر بھی آپ نے آزادی اور نجات کا دروازہ کھولا (۶۴ ہے حاشیه اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ تمام افغان یوسف زئی ۔ داؤ دزئی۔ لودی۔ سروانی ۔ اورک زئی ۔ سدوزئی ۔ بارک زئی (۶۳) وغیرہ در اصل بنی اسرائیل ہیں۔ اور ان کا مورث اعلیٰ قیس ہے۔ اور چونکہ یہ بھی ایک مشہور واقعہ افغانوں میں ہے کہ والدہ کی طرف سے ان کے سلسلہ کی ابتدا سارہ بنت خالد ابن ولید سے ہے۔ یعنی قیس اُن کے مورث نے سارہ سے شادی کی تھی اس لئے اور ان معنوں سے وہ خالد کی آل بھی ٹھہرے۔ لیکن بہر حال یہ متفق علیہ افغانوں میں تاریخی امر ہے کہ قیس مورث اعلیٰ ان کا بنی اسرائیل میں سے تھا۔ یہ بات یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں یعنی تینوں فرقوں نے بالا تفاق تسلیم کی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے قریباً سات سو برس پہلے بخت نصر بابلی نے بنی اسرائیل کوگرفتار کرکے بابل میں پہنچا دیا تھا اور اس حادثہ کے بعد بنی اسرائیل کی بارہ قوموں میں سے