ایّام الصّلح — Page 292
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۹۲ اتمام اصلح دکھلا نہیں سکتے جس سے معلوم ہو کہ صرف یہ قوم نجات یافتہ اور دوسرے سب لوگ نجات سے محروم ہیں۔ بلکہ ثابت تو یہ ہے کہ یہ قوم روحانیت اور فیوض سماوی اور نجات کی روحانی علامات اور برکات سے بالکل بے بہرہ ہے۔ پھر مماثلت کیونکر اور کس صورت سے ثابت ہومماثلت تو امور بدیہیہ اور محسوسہ اور مشہورہ میں ہونی چاہئیے تا لوگ اُس کو یقینی طور پر شناخت کر کے اس سے شخص مثیل کو شناخت کریں۔ کیا اگر آج ایک شخص مثیل موسیٰ ہونے کا دعوی کرے اور مماثلت یہ پیش کرے کہ میں روحانی طور پر قوم کا منجی ہوں اور نجات دینے کی کوئی محسوس اور مشہود علامت نہ دکھلاوے تو کیا عیسائی صاحبان اُس کو قبول کر لیں گے کہ در حقیقت یہی مثیل موسیٰ ہے؟ پس سچا فیصلہ اور ایمان کا فیصلہ اور انصاف کا فیصلہ یہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مثیل موسیٰ ہرگز نہیں ہیں اور خارجی واقعات کا نمونہ کوئی انہوں نے ایسا نہیں دکھلایا جس سے مومنوں کی نجات دہی اور کفار کی سزا دہی میں حضرت موسیٰ سے اُن کی مشابہت ۵۹ ثابت ہو بلکہ برعکس اس کے اُن کے وقت میں مومنوں کو سخت تکالیف پہنچیں جن تکالیف سے خود حضرت عیسی بھی باہر نہ رہے۔ پس ہم ایمان کو ضائع کریں گے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک خائن ٹھہریں گے اگر ہم یہ اقرار نہ کریں کہ وہ مثیل جس کا توریت کتاب استثنا میں ذکر ہے وہ وہی نبی مؤید الہی ہے جو معہ اپنی جماعت کے تیرہ برس برابر دکھ اٹھا کر اور ہر ایک قسم کی تکلیف دیکھ کر آخر معہ اپنی جماعت کے بھاگا۔ اور اس کا تعاقب کیا گیا آخر بدر کی لڑائی میں چند گھنٹوں میں فیصلہ ہو کر ابو جہل اور اس کا لشکر تلوار کی دھار سے ایسے ہی مارے گئے جیسا کہ دریائے نیل کی دھار سے فرعون اور اس کے لشکر کا کام تمام کیا گیا۔ دیکھو کیسی صفائی اور کیسے مشہور اور محسوس طور پر یہ دونوں واقعات مصر اور مکہ اور دریائے نیل اور بدر کے آپس میں مماثلت رکھتے ہیں۔ نوٹ : اگر عیسائیوں کا یہ خیال ہو کہ یسوع نے روحانی طور پر لوگوں کو گنا ہوں سے نفرت دلائی تو اس بات میں یسوع کی کچھ خصوصیت نہیں تمام نبی اسی غرض سے آیا کرتے ہیں کہ حتی الوسع لوگوں کی اخلاقی اور عملی اور اعتقادی حالت کی اصلاح کریں اور ان کی کوششوں کے اثر بھی ضرور ہوتے ہیں۔ اور اگر یہ دعوی ہے کہ گناہوں کی سزا صرف یسوع کے ذریعہ سے ملی تو اس پر کوئی دلیل نہیں ۔ منہ