ایّام الصّلح — Page 291
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۹۱ امام الصلح اور اُس کے لشکر کا تعاقب کے وقت بدر کی لڑائی میں ہلاک ہونا امور مشہودہ محسوسہ میں سے تھا جس سے انکار کرنا حماقت اور دیوانگی میں داخل ہے۔ سو یہ دونوں واقعات اپنے تمام سوانح کے لحاظ سے با ہم ایسی مشابہت رکھتے ہیں کہ گویا دو توام بھائیوں کی طرح ہیں۔ اور عیسائیوں کا یہ قول کہ یہ مثیل موسیٰ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں بالکل مردود اور قابل شرم ہے کیونکہ مماثلت امور مشہودہ محسوسہ یقینیہ قطعیہ میں ہونی چاہیے نہ ایسے فضول اور وہمی دعوے کے ساتھ جو خود جائے بحث اور سخت انکار کی جگہ ہے ۔ یہ دعوی کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے منجی تھے اور ایسا ہی یسوع بھی عیسائیوں کا منجی تھا کس قدر بودہ اور بے ثبوت خیال ہے۔ کیونکہ یہ محض اپنے دل کے بے اثر تصورات ہیں جن کے ساتھ کوئی بدیہی اور روشن علامت نہیں ہے۔ اور اگر نجات دینے کی کوئی علامت ہوتی تو یہود بکمال شکر گذاری اُسی (۵۸) طرح حضرت عیسی کو قبول کرتے اور اُن کے نجی ہونے کا اُسی قدرشکر کے ساتھ اقرار کرتے جیسا کہ دریائے نیل کے واقعہ کے بعد انہوں نے شکر گزاری کے گیت گائے تھے۔ لیکن ان کے دلوں نے تو کچھ بھی محسوس نہ کیا کہ یہ کیسی نجات ہے کہ یہ شخص ہمیں دیتا ہے۔ مگر وہ اسرائیلی یعنی خدا کے بندے جن کو ہمارے سید و مولیٰ نے مکہ والوں کے ظلم سے چھڑایا انہوں نے بدر کے واقعہ کے بعد اسی طرح گیت گائے جیسے کہ بنی اسرائیل نے دریائے مصر کے سر پر گائے تھے اور وہ عربی گیت اب تک کتابوں میں محفوظ چلے آتے ہیں جو بدر کے میدان میں گائے گئے ۔ ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اس پیشگوئی کی روح تو یہی مماثلت ہے۔ پھر اگر یہ مماثلت امور مشہور و محسوسہ میں سے نہ ہوا اور مخالف کی نظر میں ایک امر ثابت شدہ اور بدیہیات اور مسلمات کے رنگ میں نہ ہو تو کیونکر ایسا بیہودہ دعوئی ایک طالب حق کے ہدایت پانے کے لئے رہبر ہوسکتا ہے ۔ اس میں کیا شک ہے کہ یسوع کا منجی ہونا عیسائیوں کا صرف ایک دعویٰ ہے جس کو وہ دلائل عقلیہ کے رُو سے ثابت نہیں کر سکے اور نہ بدیہیات کے رنگ میں دکھلا سکے اور پوچھ کر دیکھ لو کہ وہ لوگ عیسائیت اور دوسری قوموں میں کوئی مابہ الامتیاز