ایّام الصّلح — Page 290
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۹۰ اتمام اصلح صلیبی فتنوں کی مسیح اصلاح کرے گا۔ پس جس شخص کو یہ اصلاح سپر دہوئی ضرور تھا کہ اس کا نام مسیح موعود رکھا جائے ۔ پس سوچو کہ يَكْسِرُ الصَّلِيْب کی خدمت کس کو سپرد ہے؟ اور کیا اب یہ وہی زمانہ ہے یا کوئی اور ہے؟ سوچو خدا تمہیں تھام لے۔ اس تمام تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا ذکر نہیں ہے وہ نہایت غلطی پر ہیں ۔ بلکہ حق یہ ہے کہ مسیح موعود کا ذکر نہایت اکمل اور اتم طور پر قرآن شریف میں پایا جاتا ہے۔ دیکھو اول قرآن شریف نے آیت كَمَا أَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا میں صاف طور پر ظاہر کر دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں۔ کیونکہ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ ہم نے اس نبی کو اس نبی کی مانند بھیجا ہے جو (۵۷) فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اور واقعات نے ظاہر کر دیا کہ یہ بیان اللہ جل شانہ کا بالکل سچا ہے۔ وجہ یہ کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے موسیٰ کو فرعون کی طرف بھیج کر آخر فرعون کو بنی اسرائیل کی نظر کے سامنے ہلاک کیا اور نہ خیالی اور وہمی طور پر بلکہ واقعی اور مشہود اور محسوس طور پر فرعون کے ظلم سے بنی اسرائیل کو نجات بخشی اسی طرح یعنی بنی اسرائیل کی مانند خدا تعالیٰ کے راستباز بندے مکہ معظمہ میں تیرہ برس تک کفار کے ہاتھ سے سخت تکلیف میں رہے اور یہ تکلیف اُس تکلیف سے بہت زیادہ تھی جو فرعون سے بنی اسرائیل کو پہنچی ۔ آخر یہ راستباز بندے اُس برگزیدہ راستبازوں کے ساتھ اور اس کی ایما سے مکہ سے بھاگ نکلے اُسی بھاگنے کی مانند جو بنی اسرائیل مصر سے بھاگے تھے ۔ پھر مکہ والوں نے قتل کرنے کے لئے تعاقب کیا اُسی تعاقب کی مانند جو فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کے قتل کے لئے کیا گیا تھا۔ آخر وہ اُسی تعاقب کی شامت سے بدر میں اُس طرح پر ہلاک ہوئے جس طرح فرعون اور اس کا لشکر دریائے نیل میں ہلاک ہوا تھا اسی رمز کے کھولنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل کی لاش بدر کے مُردوں میں دیکھ کر فرمایا تھا کہ یہ شخص اس اُمت کا فرعون تھا۔ غرض جس طرح فرعون اور اس کا لشکر دریائے نیل میں ہلاک ہونا امور مشہودہ محسوسہ میں سے تھا جس کے وقوع میں کسی کو کلام نہیں ہوسکتا اسی طرح ابو جہل المزمل: ١٦