ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 550

ایّام الصّلح — Page 284

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۸۴ ایام الصلح حضرت موسیٰ سے شروع ہوا اور پھر چودہ سو برس بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہو گیا۔ اور اس نظام خلافت پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کا مسیح موعود جس کے آنے کی یہود کو خوشخبری دی گئی تھی چودہ سو برس بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آیا اور غریبوں اور مسکینوں کی شکل میں ظاہر ہوا اور اس مماثلت کے پورا کرنے کے لئے جو قرآن شریف میں دونوں سلسلۂ خلافت اسرائیلی اور خلافت محمدی میں قائم کی گئی ہے ضروری ہے کہ ہر ایک منصف اس بات کو مان لے کہ سلسلۂ خلافت محمدیہ کے آخر میں بھی ایک مسیح موعود کا وعدہ ہو جیسا کہ سلسلۂ خلافت موسویہ کے آخر میں ایک مسیح موعود کا وعدہ تھا (۵۲) اور نیز تکمیل مشابہت دونوں سلسلوں کے لئے یہ بھی لازم آتا ہے کہ جیسا کہ خلافت موسویہ کے چودہ سو برس کی مدت پر مسیح موعود بنی اسرائیل کے لئے ظاہر ہوا تھا ایسا ہی اور اسی مدت کے مشابہ زمانہ میں خلافت محمد یہ کا مسیح موعود ظاہر ہو۔ اور نیز تکمیل مشابہت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جیسا کہ یہودیوں کے علماء نے خلافت موسویہ کے مسیح موعود کو نعوذ باللہ کا فر اور ملحد اور دقبال قرار دیا تھا ایسا ہی خلافت محمدیہ کے مسیح موعود کو اسلامی قوم کے علماء کا فر اور ملحد اور وقال قرار دیں۔ اور نیز تکمیل مشابہت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جیسا کہ خلافتِ موسویہ کا مسیح موعود ایسے وقت میں آیا تھا کہ جبکہ یہودیوں کی اخلاقی حالت نہایت ہی خراب ہو گئی تھی اور دیانت اور امانت اور تقویٰ اور طہارت اور باہمی محبت اور صلح کاری میں بہت فتور پڑ گیا تھا اور اُن کی اس ملک کی بھی سلطنت جاتی رہی تھی جس ملک میں مسیح موعود اُن کی دعوت کے لئے ظاہر ہوا تھا۔ ایسا ہی خلافتِ محمدیہ کا مسیح موعود قوم کی ایسی حالت اور ایسے ادبار کے وقت ظاہر ہو۔ اور ایک وجہ تحمیل مشابہت کی یہ بھی ہے کہ سلسلہ موسویہ کی آخری خلافت کے بارے میں توریت میں لکھا تھا کہ وہ سلسلہ مسیح موعود پرختم ہوگا ۔ یعنی اس مسیح پر جس کا یہودیوں کو وعدہ دیا گیا تھا کہ وہ اس سلسلہ کے آخر میں چودہ سو برس کی مدت کے سر پر آئے گا۔ اور اس کے آنے کا یہ نشان لکھا تھا کہ اس وقت یہودیوں کی سلطنت جاتی رہے گی ۔ جیسا کہ توریت پیدائش باب ۴۹ آیت دل میں لکھا تھا کہ یہودا سے ریاست کا عصا جدا نہ ہوگا اور نہ حکم اُس کے