ایّام الصّلح — Page 283
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۸۳ امام الصلح کہ ایک مصلح عظیم الشان کی ضرورت ہے جس سے اسلام کی روحانیت بحال ہو اور بیرونی حملے کرنے والے پسپا ہوں ۔ ہاں اس قدر ہم ضرور کہیں گے کہ یہ دن دین کی حمایت کے لئے لڑائی (۵۱) کے دن نہیں ہیں۔ کیونکہ ہمارے مخالفوں نے بھی کوئی حملہ اپنے دین کی اشاعت میں تلوار اور بندوق سے نہیں کیا بلکہ تقریر اور قلم اور کاغذ سے کیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے حملے بھی تحریر اور تقریر تک ہی محدود ہوں جیسا کہ اسلام نے اپنے ابتدائی زمانہ میں ہی کسی قوم پر تلوار سے حملہ نہیں کیا جب تک پہلے اس قوم نے تلوار نہ اٹھائی۔ سو اس وقت دین کی حمایت میں تلوار اٹھانا نہ صرف بے انصافی ہے بلکہ اس بات کو ظاہر کرنا ہے کہ ہم تقریر اور تحریر کے ساتھ اور دلائل شافیہ کے ساتھ دشمن کو ملزم کرنے میں کمزور ہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹوں اور کمزوروں کا کام ہے کہ جب جواب دینے سے عاجز آجائیں تو لڑنا شروع کر دیں۔ پس اس وقت ایسی لڑائی سے خدا تعالیٰ کے بچے اور روشن دین کو بدنام کرنا ہے۔ دیکھو کس طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ برس تک کفار کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھاتے رہے اور دلائل شافیہ سے اُن کو لا جواب کرتے رہے اور ہرگز تلوار نہ اٹھائی جب تک دشمنوں نے تلوار اٹھا کر بہت سے پاک لوگوں کو شہید نہ کیا۔سو جنگ لیسانی کے مقابل پر جنگ سنانی شروع کر دینا اسلام کا کام نہیں ہے کمزوروں اور کم حوصلہ لوگوں کا کام ہے۔ اور جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے مسیح موعود کی پیشگوئی صرف حدیثوں میں نہیں ہے بلکہ قرآن شریف نے نہایت لطیف اشارات میں آنے والے مسیح کی خوشخبری دی ہے جیسا کہ اُس نے وعدہ فرمایا ہے کہ جس طرز اور طریق سے اسرائیلی نبوتوں میں سلسلۂ خلافت قائم کیا گیا ہے وہی طرز اسلام میں ہوگی کی یہ وعدہ مسیح موعود کے آنے کی خوشخبری اپنے اندر رکھتا ہے۔ کیونکہ جب سلسلۂ خلافت انبیاء بنی اسرائیل میں غور کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ سلسلہ لا دیکھو آیت وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ أَمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمُ الآية النور: ۵۶