ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 550

ایّام الصّلح — Page 276

روحانی خزائن جلد ۱۴ اتمام الصلح درہم برہم کرے اور ظاہری مثال میں تثلیث کی بنیاد دمشق سے شروع ہوئی تھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم کشف میں یہ دکھایا گیا کہ گویا سیح موعود دمشق کے منارہ مشرقی کے قریب نازل ہوا۔ یہ بعینہ ایسا ہی تھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کا طواف کرنا کشفی عالم میں دکھایا گیا۔ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ظاہر کیا گیا کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج میں سے وہ بیوی پہلے فوت ہوگی جس کے لمبے ہاتھ ہوں گے اور دراصل لمبے ہاتھوں سے مراد سخاوت تھی ۔ در اصل بات یہ ہے کہ بسا اوقات انبیاء علیہم السلام اور دوسرے ملہمین پر ایسے امور ظاہر کئے جاتے ہیں کہ وہ سراسر استعارات کے رنگ میں ہوتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام ان کو اسی طرح (۴۵) لوگوں پر ظاہر کر دیتے ہیں جس طرح وہ سکتے ہیں یا د یکھتے ہیں۔ اور ایسا بیان کرنا غلطی میں داخل نہیں ہوتا کیونکہ اُسی رنگ اور طرز سے وحی نازل ہوتی ہے اور یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ الہامی اور کشفی پیشگوئیوں کے تمام استعارات کا نبی کو علم دیا جائے کیونکہ بعض ابتلا جو پیشگوئیوں کے ذریعہ سے کسی زمانہ کے لئے مقدر ہوتے ہیں وہ علم کی اشاعت کی وجہ سے قائم نہیں رہ سکتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پیشگوئیوں کے بعض اسرار سے نبیوں کو اطلاع تو دی جائے مگر اُن کو اُن اسرار کے افشا سے منع کیا جائے۔ بہر حال یہ امور نبوت کی شان سے ہرگز منافی نہیں ہیں۔ کیونکہ کامل اور غیر محدود علم خدا تعالیٰ کی ذات سے خاص ہے اور نزول مسیح موعود میں یہ احتمال بھی ہے کہ ایسی جگہ اُس موعود کا ظہور ہو گا جو دمشق سے شرق کی طرف واقع ہوگی اور بموجب تحقیق جغرافیہ کے وہ قادیاں ہے کیونکہ دمشق سے اگر ایک خط مستقیم مشرق کی طرف کھینچا جائے تو ٹھیک ٹھیک مشرقی طرف اس کی وہ نقطہ ہے جہاں لاہور ہے جو صدر مقام پنجاب کا ہے اور قادیاں لاہور کے مضافات میں سے ہے۔ کیونکہ دائرہ پنجاب کا مرکز حکومت قدیم سے لاہورہی ہے اور قادیاں لاہور سے تقریباً ستر میل چلا یعنی چونکہ مسیح موعود کی توجہ خاص اس طرف تھی کہ وہ تثلیث کو برا مین قطعیہ سے معدوم کرے اس لئے عالم کشف میں دمشق کے قریب اس کا اتر نامشہور ہوا کیونکہ اس کا آنا مشقی بنیاد کی قلع قمع کے لئے تھا۔ منہ