ایّام الصّلح — Page 272
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۷۲ اتمام اصلح کسی غلطی پر مجھے خدا تعالیٰ قائم نہیں رکھتا مگر یہ دعوی نہیں کرتا کہ میں اپنے اجتہاد میں غلطی نہیں کر سکتا۔ خدا کا الہام غلطی سے پاک ہوتا ہے مگر انسان کا کلام غلطی کا احتمال رکھتا ہے کیونکہ سہو ونسیان لازمه بشریت ہے ۔ میں نے براہین احمدیہ میں یہ بھی اعتقاد ظاہر کیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام پھر واپس آئیں گے مگر یہ بھی میری غلطی تھی جو اس الہام کے مخالف تھی جو براہین احمدیہ میں ہی لکھا گیا۔ کیونکہ اس الہام میں خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسی رکھا اور مجھے اس قرآنی پیشگوئی کا مصداق ٹھہرایا جو حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے خاص تھی کی اور آنے والے مسیح موعود کے تمام صفات مجھ میں قائم کئے سو خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت تھی جو میں با وجودان الہامی تصریحات کے ان الہامات کے منشاء پر اطلاع نہ پاسکا اور ایسے عقیدہ کو جو ان الہامات کے مخالف تھا براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ اس تحریر سے میری ہر مت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اگر وہ الہامات براہین احمدیہ کے میری بناوٹ ہوتے جن میں واقعی طور پر مجھے مسیح موعود قرار دیا گیا تھا تو میں اپنے بیان میں ان الہامات سے اختلاف نہ کرتا بلکہ اُسی وقت مسیح موعود ہونے کا دعوی کر دیتا لیکن ظاہر ہے کہ میرا اپنا عقیدہ جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھا ان الہامات کی منشا سے جو براہین احمدیہ میں درج ہیں صریح نقیض پڑا ہوا ہے۔ جس سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ وہ الہامات میری بناوٹ اور منصوبہ سے مبرا اور منزہ ہیں۔ اس (۲۲) جگہ یہ بھی یادر ہے کہ یہ انسان کا کام نہیں کہ بارہ برس پہلے ایک دعوئی سے الہامی عبارت لکھ کر اس دعوے کی تمہید قائم کرے اور پھر سالہا سال کے بعد ایسا دعویٰ کرے جس کی بنیاد ایک مدت دراز پہلے قائم کی گئی ہے۔ ایسا باریک مکر نہ انسان کر سکتا ہے نہ خدا اس کو ایسے افتراؤں میں اس قدر مہلت دے سکتا ہے۔ اس تمام تقریر سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات حیات کی بحث میں وہ یہ آیت ہے۔ هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۔ الصف: ١٠ منه