ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 550

ایّام الصّلح — Page 262

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۶۲ امام الصلح چنانچہ ظاہر ہے کہ ہر ایک نبی کی نسبت جو پہلے نبیوں نے پیشگوئیاں کیں اُن کے ہمیشہ دوحصے ہوتے رہے ہیں ایک بینات اور محکمات جن میں کوئی استعارہ نہ تھا اور کسی تاویل کی محتاج نہ تھیں۔ اور ایک متشابہات جو محتاج تاویل تھیں اور بعض استعارات اور مجازات کے پر دے میں محجوب تھیں۔ پھر ان نبیوں کے ظہور اور بعثت کے وقت جو ان پیشگوئیوں کے مصداق تھے دو فریق ہوتے رہے ہیں۔ ایک فریق سعیدوں کا جنہوں نے ہینات کو دیکھ کر ایمان لانے میں تاخیر نہ کی اور جو حصہ متشابہات کا تھا اس کو استعارات اور مجازات کے رنگ میں سمجھ لیا یا آئندہ کے منتظر رہے کہیے اور اس طرح پر حق کو پالیا اور ٹھوکر نہ کھائی۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوا۔ پہلی کتابوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت دو طور کی پیشگوئیاں تھیں۔ ایک یہ کہ وہ مسکینوں اور عاجزوں کے پیرا یہ میں ظاہر ہو گا اور غیر سلطنت کے زمانہ میں آئے گا اور داؤد کی نسل سے ہوگا اور حلم اور نرمی سے کام لے گا اور نشان دکھلائے گا۔ اور دوسری قسم کی یہ پیشگوئیاں تھیں کہ وہ بادشاہ ہوگا اور بادشاہوں کی طرح لڑے گا اور یہودیوں کو غیر سلطنت کی ماتحتی سے چھڑا دے گا۔ اور اس سے پہلے ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ اور جب تک ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آوے وہ نہیں آئے گا۔ پھر جب حضرت عیسی علیہ السلام نے ظہور فرمایا تو یہود دو فریق ہو گئے ۔ ایک فریق جو بہت ہی کم اور قلیل التعداد تھا۔ اس نے حضرت مسیح کو داؤد کی نسل سے پا کر اور پھر اُس کی مسکینی اور عاجزی اور راستبازی دیکھ کر اور پھر آسمانی نشانوں کو ملاحظہ کر کے اور نیز زمانہ کی حالت موجودہ کو دیکھ کر کہ وہ ایک نبی مصلح کو چاہتی ہے اور پہلی پیشگوئیوں کے قرار دادوقتوں کا مقابلہ کر کے یقین کر لیا کہ یہ وہی نبی ہے جس کا اسرائیل کی قوم کو حملہ پیشگوئیوں میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ تمام باتیں ان کی ایک ہی وقت میں پوری ہو جائیں بلکہ تدریجا پوری ہوتی رہتی ہیں اور ممکن ہے کہ بعض باتیں ایسی بھی ہوں کہ اس مامور کی زندگی میں پوری نہ ہوں اور کسی دوسرے کے ہاتھ سے جو اس کے متبعین میں سے ہو پوری ہو جائیں۔ منہ