ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 550

ایّام الصّلح — Page 259

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۵۹ اتمام الصلح احسان کریں اور نیکی کے عوض میں نیکی بجا لاویں۔ جیسا کہ اب ہم عیسائی گورنمنٹ سے بہر طرح امن اور راحت دیکھ رہے ہیں۔ کیا اس کا عوض یہ ہے کہ ہم منافقانہ زندگی اُن سے بسر کریں اور دل میں کچھ اور زبان پر کچھ ہو ؟ ہاں جس طرح ما در مہربان یہ چاہتی ہے کہ اس کا بیٹا کسی ایسی حالت میں گرفتار نہ ہو جس کا خطرناک نتیجہ ہے۔ اسی طرح ہم عیسائیوں اور ہندوؤں کے ساتھ شفقت اور رحمت سے معاملہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ہمیں یہ دلی آرزو ہے کہ کوئی محبت اور آرام سے ہماری باتیں سنے اور دلائل میں غور کرے اور پھر اپنے نفس کا خیر خواہ ہوکر اپنے عقائد کی اصلاح کرے۔ یہ تفسیر سورۃ فاتحہ محض اس غرض سے یہاں لکھی گئی ہے کہ یہ قرآن شریف کی تمام تعلیم کا مغز ہے اور جو شخص قرآن سے اس کے برخلاف کچھ نکالنا چاہتا ہے وہ جھوٹا ہے اور اس سورہ فاتحہ میں (۳۰) جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں مسلمانوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ دُعا میں مشغول رہیں بلکہ دُعا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سکھلائی گئی ہے۔ اور فرض کیا گیا ہے کہ پنچ وقت یہ دعا کریں پھر کس قدر غلطی ہے کہ کوئی شخص دُعا کی رُوحانیت سے انکار کرے۔ قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ دُعا اپنے اندر ایک رُوحانیت رکھتی ہے اور دُعا سے ایک فیض نازل ہوتا ہے جو طرح طرح کے پیرایوں میں کامیابی کا ثمرہ بخشتا ہے۔ ہماری تقریر مذکورہ بالا سے ہر ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح با وجود تسلیم مسئلہ قضا و قدر کے صد با امور میں یہی سنت اللہ ہے کہ جدو جہد سے ثمرہ مترتب ہوتا ہے اسی طرح دعا میں بھی جو جد و جہد کی جائے وہ بھی ہرگز ضائع نہیں جاتی۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک جگہ پر اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خدا وہ خدا ہے جو بے قراروں کی دعائنا ہے۔ یہ دعا نوع انسان کی عام ہمدردی کے لئے ہے۔ کیونکہ دُعا کرنے میں تمام نوع انسان کو شامل کر لیا ہے اور سب کے لئے دعا مانگی ہے کہ خدا دنیا کے دکھوں سے انہیں بچاوے اور آخرت کے ٹوٹے سے محفوظ رکھے اور سب کو سیدھی راہ پر لا دے ۔ منہ