ایّام الصّلح — Page 251
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۵۱ امام الصلح پیدا ہو جانا پاس ہو جانے سے مشابہ ہے اور پھر وہ چیز یا وہ مرتبہ میسر آجانا جس کے لئے پاس ہوا تھا اُس حالت سے مشابہ انسان کے فیض پانے کی وہ حالت ہے جو پر تو ہ صفت مــالـکـیـت يــوم الدين سے حاصل ہوتی ہے۔ ان دونوں صفتوں رحیمیت اور مالکیت یوم الدین میں یہ اشارہ ہے کہ فیض رحیمیت خدا تعالیٰ کے رحم سے حاصل ہوتا ہے۔ اور فیض مالکیت یوم الدین خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتا ہے اور مالکیت یوم الدین اگر چہ وسیع اور کامل طور پر عالم معاد میں متجلی ہوگی مگر اس عالم میں بھی اس عالم کے دائرہ کے موافق یہ چاروں صفتیں تجلی کر رہی ہیں۔ ہوئی مگراس عالم کے کے نیں جی کرہی ربوبیت عام طور پر ایک فیض کی بناڈالتی ہے اور رحمانیت اس فیض کو جانداروں میں گھلے طور پر دکھلاتی ہے اور رحیمیت ظاہر کرتی ہے کہخط ممتد فیض کا انسان پر جا کر ختم ہوجاتا ہے اور انسان وہ جانور ہے جو فیض کو نہ صرف حال سے بلکہ منہ سے مانگتا ہے اور مالکیت یوم الدین فیض کا آخری شمرہ بخشتی ہے۔ یہ چاروں صفتیں دنیا میں ہی کام کر رہی ہیں مگر چونکہ دُنیا کا دائرہ نہایت تنگ اور نیز جاہل اور بے خبری اور کم نظری انسان کے شامل حال ہے اس لئے یہ نہایت وسیع دائرے صفات اربعہ کے اس عالم میں ایسے چھوٹے نظر آتے جیسے بڑے بڑے گولے ستاروں کے دُور سے صرف نقطے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن عالم معاد میں پورا نظارہ ان صفات اربعہ کا ہوگا۔ اس لئے حقیقی اور کامل طور پر یوم الدین وہی ہوگا جو عالم معاد ہے۔اُس عالم میں ہر ایک صفت ان صفات اربعہ میں سے دوہری طور پر اپنی شکل دکھائے گی یعنی ظاہری طور پر اور باطنی طور پر اس لئے اس وقت یہ چار صفتیں آٹھ صفتیں معلوم ہوں گی۔ اس کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا میں چار فرشتے خدا تعالی کا عرش اُٹھا رہے ہیں اور اُس دن آٹھ فرشتے خدا تعالیٰ کا عرش اٹھائیں گے۔ یہ استعارہ کے طور پر کلام ہے۔ چونکہ خدا تعالیٰ کی ہر صفت کے مناسب حال ایک فرشتہ بھی پیدا کیا گیا ہے اس لئے چار صفات کے متعلق چار فرشتے بیان کئے گئے ۔ اور جب آٹھ صفات کی تجلّی ہوگی تو اُن صفات کے ساتھ آٹھ فرشتے ہوں گے۔ اور چونکہ یہ صفات الوہیت کی ماہیت کو ایسا اپنے پر لئے ہوئے ہیں کہ گویا اُس کو اُٹھا رہے ہیں اس لئے استعارہ کے طور پر