ایّام الصّلح — Page 250
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۵۰ اتمام الصلح ذات میں رکھی ہیں اور رحیمیت کو جو انسان کی دعا کو چاہتی ہے خاص انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ میں ایک قسم کا وہ فیض ہے جو دُعا کرنے سے وابستہ ہے اور بغیر دعا کے کسی طرح مل نہیں سکتا ۔ یہ سنت اللہ اور قانون الہی ہے جس میں تخلف جائز نہیں یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السّلام اپنی اپنی اُمتوں کے لئے ہمیشہ دعا مانگتے رہے۔ توریت میں دیکھو کہ کتنی دفعہ بنی اسرائیل خدا تعالیٰ کو ناراض کر کے عذاب کے قریب پہنچ گئے اور پھر کیونکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا اور تضرع اور سجدہ سے وہ عذاب ٹل گیا حالانکہ بار بار وعدہ بھی ہوتا رہا کہ میں ان کو ہلاک کروں گا۔ اب ان تمام واقعات سے ظاہر ہے کہ دعا محض اغوا مر نہیں ہے۔ اور نہ صرف ایسی عبادت (۲۲) جس پر کسی قسم کا فیض نازل نہیں ہوتا۔ یہ ان لوگوں کے خیال ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کا وہ قدر نہیں کرتے جو حق قدر کرنے کا ہے اور نہ خدا کی کلام کو نظر عمیق سے سوچتے ہیں اور نہ قانون قدرت پر نظر ڈالتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دعا پر ضرور فیض نازل ہوتا ہے جو ہمیں نجات بخشتا ہے۔ اسی کا نام فیض رحیمیت ہے ۔ جس سے انسان ترقی کرتا جاتا ہے۔ اسی فیض سے انسان ولایت کے مقامات تک پہنچتا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایسا یقین لاتا ہے کہ گویا آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔ مسئلہ شفاعت بھی صفت رحیمیت کی بناء پر ہے ۔ خدا تعالیٰ کی رحیمیت نے ہی تقاضا کیا کہ اچھے آدمی بُرے آدمیوں کی شفاعت کریں۔ چوتھا احسان خدا تعالیٰ کا جو قسم چہارم کی خوبی ہے جس کو فیضان اخص سے موسوم کر سکتے ہیں مالكيت يوم الدين ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں فقرہ مالک یوم الدین میں بیان فرمایا گیا ہے اور اس میں اور صفت رحیمیت میں یہ فرق ہے کہ رحیمیت میں دعا اور عبادت کے ذریعہ سے کامیابی کا استحقاق قائم ہوتا ہے اور صفت مالکیت یوم الدین کے ذریعہ سے وہ ثمرہ عطا کیا جاتا ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک انسان گورنمنٹ کا ایک قانون یاد کرنے میں محنت اور جد و جہد کر کے امتحان دے اور پھر اس میں پاس ہو جائے۔ پس رحیمیت کے اثر سے کسی کامیابی کے لئے استحقاق