ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 550

ایّام الصّلح — Page 247

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۴۷ امام الصلح خلاصہ اور عطر موجود ہے۔ اور اس سورۃ میں ہدایت پانے کے لئے ایک دُعا سکھلائی گئی ہے تا معلوم ہو کہ فیوض ربانی حاصل کرنے کے لئے دُعا کرنا ضروری ہے اور اس سورۃ کو اَلْحَمْدُ لِله سے شروع کیا گیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک حمد اور تعریف اس ذات کے لئے مسلّم ہے جس کا نام اللہ ہے۔ اور اس فقرہ الحمد للہ سے اس لئے شروع کیا گیا کہ اصل مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت رُوح کے جوش اور طبیعت کی کشش سے ہو اور ایسی کشش جو عشق اور محبت سے بھری ہوئی ہو ہر گز کسی کی نسبت پیدا نہیں ہو سکتی جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ شخص ایسی کامل خوبیوں کا جامع ہے جن کے ملاحظہ سے بے اختیار دل تعریف کرنے لگتا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ کامل تعریف دو قسم کی خوبیوں کے لئے ہوتی ہے۔ ایک کمال حسن اور ایک کمال احسان اور اگر کسی میں دونوں خوبیاں جمع ہوں تو پھر اُس کے لئے دل فدا اور شیدا ہو جاتا ہے۔ اور (19) قرآن شریف کا بڑا مطلب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی دونوں قسم کی خوبیاں حق کے طالبوں پر ظاہر کرے تا اُس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں اور روح کے جوش اور کشش سے اُس کی بندگی کریں۔ اس لئے پہلی سورۃ میں ہی یہ نہایت لطیف نقشہ دکھلانا چاہا ہے کہ وہ خدا جس کی طرف قرآن بلاتا ہے وہ کیسی خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے۔ سواسی غرض سے اس سورۃ کو الْحَمْدُ لِلهِ سے شروع کیا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ سب تعریفیں اس کی ذات کے لئے لائق ہیں جس کا نام اللہ ہے۔ اور قرآن کی اصطلاح کی رُو سے اللہ اُس ذات کا نام ہے جس کی تمام خوبیاں حسن و احسان کے کمال کے نقطہ پر پہنچی ہوئی ہوں اور کوئی منقصت اُس کی ذات میں نہ ہو ۔ قرآن شریف میں تمام صفات کا موصوف صرف اللہ کے اسم کو ہی ٹھہرایا ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اللہ کا اسم تب متحقق ہوتا ہے کہ جب تمام صفات کا ملہ اس میں پائی جائیں ۔ پس جبکہ ہر ایک قسم کی خوبی اس میں پائی گئی تو حسن اس کا ظاہر ہے۔ اسی حسن کے لحاظ سے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کا نام نور ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے ۔ اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ یعنی اللہ تعالی زمین و آسمان کا نور ہے۔ ہر ایک نور اسی کے نور کا پر توہ ہے۔ ل النور: ٣٦