ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 550

ایّام الصّلح — Page 240

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۴۰ اتمام اصلح روشنی کے طالب کے لئے صرف دعا ہی ایک ذریعہ ہے جو خدا تعالی کی ہستی پر یقین بخشا اور تمام شکوک و شبہات دور کر دیتا ہے۔ کیونکہ جو مقاصد بغیر دعا کے کسی کو حاصل ہوں وہ نہیں جانتا کہ کیونکر اور کہاں سے اس کو حاصل ہوئے ۔ بلکہ صرف تدبیروں پر زور مارنے والا اور دعا سے غافل رہنے والا یہ خیال نہیں کر سکتا کہ یقیناً و حقا خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے اُس کے مقاصد کو اس کے دامن میں ڈالا ہے یہی وجہ ہے کہ جو شخص دُعا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر کسی کامیابی کی بشارت دیا جاتا ہے وہ اس کام کے ہو جانے پر خدا تعالیٰ کی شناخت اور معرفت اور محبت میں آگے قدم بڑھاتا ہے اور اس قبولیت دعا کو اپنے حق میں ایک عظیم الشان نشان دیکھتا ہے اور اسی طرح وقتا فوقتا یقین سے پُر ہو کر جذبات نفسانی اور ہر ایک قسم کے گناہ سے ایسا مجتنب ہو جاتا ہے کہ گویا صرف ایک روح رہ جاتا ہے۔ لیکن جو شخص دُعا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کے رحمت آمیز نشانوں کو نہیں دیکھتا وہ با وجود تمام عمر کی کامیابیوں اور بے شمار دولت اور مال اور اسباب تعم کے دولت حق الیقین سے بے بہرہ ہوتا ہے اور وہ کامیابیاں اس کے دل پر کوئی نیک اثر نہیں ڈالتیں بلکہ جیسے جیسے دولت اور اقبال پاتا ہے غرور اور تکبر میں بڑھتا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ پر اگر اس کو کچھ ایمان بھی ہو تو ایسا مُردہ ایمان ہوتا ہے جو اُس کو نفسانی جذبات سے روک نہیں سکتا اور حقیقی پاکیزگی بخش نہیں سکتا۔ یہ بات یادر ہے کہ اگر چہ قضا و قدر میں سب کچھ مقرر ہو چکا ہے مگر قضا و قدر نے علوم کو ضائع نہیں کیا۔ سو جیسا کہ باوجود تسلیم مسئلہ قضا و قدر کے ہر ایک کو علمی تجارب کے ذریعہ سے ماننا پڑتا ہے کہ بے شک دواؤں میں خواص پوشیدہ ہیں اور اگر مرض کے مناسب حال کوئی دوا استعمال ہو تو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے بے شک مریض کو فائدہ ہوتا ہے سو ایسا ہی علمی تجارب کے ذریعہ سے ہر ایک عارف کو ماننا پڑا ہے کہ دُعا کا قبولیت کے ساتھ ایک رشتہ ہے۔ ہم اس راز کو معقولی طور پر دوسروں کے دلوں میں بٹھا سکیں یا نہ بٹھا سکیں مگر کروڑ یا راستبازوں کے تجارب نے اور خود ہمارے تجربہ نے اس مخفی حقیقت کو ہمیں دکھلا دیا ہے کہ