ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 550

ایّام الصّلح — Page 237

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۳۷ امام الصلح سمجھ کر بذریعہ حالی اور قالی دُعاؤں کے اس سے قوت اور امداد مانگتا اور دوسرا صرف اپنی تدبیر اور قوت پر بھروسہ کر کے دُعا کو قابل مضحکہ سمجھتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ سے بے نیاز اور متکبرانہ حالت میں رہتا ہے۔ جو شخص مشکل اور مصیبت کے وقت خدا سے دُعا کرتا اور اس سے حل مشکلات چاہتا ہے وہ بشر طیکہ دُعا کو کمال تک پہنچاوے خدا تعالیٰ سے اطمینان اور حقیقی خوشحالی پاتا ہے اور اگر بالفرض وہ مطلب اس کو نہ ملے تب بھی کسی اور قسم کی تسلی اور سکیت خدا تعالی کی طرف سے اس کو عنایت ہوتی ہے اور وہ ہرگز ہرگز نا مراد نہیں رہتا اور علاوہ کامیابی کے ایمانی قوت اس کی ترقی پکڑتی ہے اور یقین بڑھتا ہے لیکن جو شخص دُعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف منہ نہیں کرتا وہ ہمیشہ اندھا رہتا اور اندھا مرتا ہے اور ہماری اس تقریر میں اُن نادانوں کا جواب کافی طور پر ہے جو اپنی نظر خطا کار کی وجہ سے یہ اعتراض کر بیٹھتے ہیں کہ بہتیرے ایسے آدمی نظر آتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ اپنے حال اور قال سے دُعا میں فنا ہوتے ہیں پھر بھی اپنے مقاصد میں نائر اور ہتے اور نامراد مرتے ہیں اور ہمقابل ان کے ایک اور شخص ہوتا ہے کہ نہ دُعا 9 کا قائل نہ خدا کا قائل وہ اُن پر فتح پاتا ہے اور بڑی بڑی کامیابیاں اُس کو حاصل ہوتی ہیں ۔سو جیسا کہ ابھی میں نے اشارہ کیا ہے اصل مطلب دُعا سے اطمینان اور تسلی اور حقیقی خوشحالی کا پانا ہے۔ اور یہ ہرگز صحیح نہیں کہ ہماری حقیقی خوشحالی صرف اُسی امر میں میسر آ سکتی ہے جس کو ہم بذریعہ دعا چاہتے ہیں بلکہ وہ خدا جو جانتا ہے کہ ہماری حقیقی خوشحالی کس امر میں ہے وہ کامل دُعا کے بعد ہمیں عنایت کر دیتا ہے جو شخص رُوح کی سچائی سے دُعا کرتا ہے وہ ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر نا مراد رہ سکے بلکہ وہ خوشحالی جو نہ صرف دولت سے مل سکتی ہے اور نہ حکومت سے اور نہ صحت سے بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے جس پیرا یہ میں چاہے وہ عنایت کر سکتا ہے ہاں وہ کامل دعاؤں سے عنایت کی جاتی ہے ۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے تو ایک مخلص صادق کو عین مصیبت کے وقت میں دُعا کے بعد وہ لذت حاصل ہو جاتی ہے جو ایک شہنشاہ کو تخت شاہی پر حاصل نہیں ہو سکتی ۔ سو اسی کا نام حقیقی مراد یابی ہے جو آخر دُعا کرنے والوں کو ملتی ہے ۔ اور