ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 550

ایّام الصّلح — Page 234

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۳۴ امام الصلح کے بھی مخالف ہیں۔ اس کا یہی سبب ہے کہ اس زمانہ میں بہت سے لوگ دن رات دنیا کی مشغولیوں میں غرق رہ کر اسلامی تعلیم سے سخت غافل ہو گئے ہیں۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ جو کچھ ہم نے دفع طاعون کے بارے میں بطور حفظ ما تقدم اپنے پہلے اشتہار میں ایک تدبیر لکھی تھی اس تدبیر کے بیان کرنے سے ہرگز ہمارا یہ منشا نہ تھا کہ وہ یقینی اور قطعی علاج ہے اور ایسا لا زوال اور تسلی بخش ہے کہ اس کے بعد دعا کی بھی حاجت نہیں بلکہ منشا صرف اس قدر تھا کہ گمان غالب ہے کہ اُس سے فائدہ ہو ۔ ہم یقینا جانتے ہیں کہ کسی مرض کے متعلق ڈاکٹروں اور طبیبوں کے ہاتھ میں کوئی ایسی دوا نہیں جس پر دعوی کر سکیں کہ وہ قضا و قدر کے ساتھ پوری لڑائی کر کے تمام قسم کی طبائع کو ضرور کسی مرض سے حکماً نجات دے دے گی بلکہ ہما را یقین ہے کہ اب تک طبیبوں کو ایسی دوا میسر ہی نہیں آئی اور نہ آ سکتی ہے کہ جو حکماً ہر ایک طبیعت اور عمر اور ہر ایک ملک کے آدمی کو مفید پڑے اور ہر گز خطا نہ جائے ۔ لہذا با وجود تد بیر کے بہر حال دُعا کا خانہ خالی ہے اور طاعون تو تمام امراض مہلکہ میں سے اول درجہ پر ہے ۔ پھر کیونکر ایسی مہلک مرض کے بارے میں کوئی دعوی کر سکتا ہے کہ کوئی تدبیر یا دوا اس کے حملہ قاتلہ سے تمام جانوں کو بچا سکتی ہے ۔ پھر جب کہ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ کے یعنی اگر یہ لوگ تکذیب پر کمر بستہ ہوں تو ان کو کہہ دے کہ اگر تم ایمان لاؤ تو خدا کی وسیع رحمت سے تمہیں حصہ ملے گا اور اگر تکذیب سے باز نہ آؤ تو اس کا عذاب ایسا نہیں کہ کسی حیلہ اور تدبیر سے مل سکے۔ سو یہ پیشگوئی بھی شرطی ہے اور قرآن شریف میں ایسا ہی انبیاء علیہم السلام کے قصوں میں جابجا شرعلی پیشگوئیاں ہیں ان سے انکار کرنا گویا اسلام سے انکار کرنا ہے بلکہ حضرت یونس کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انذاری پیشگوئی بغیر کسی شرط کے بھی صرف تو بہ اور استغفار سے مل سکتی ہے کیونکہ ازل سے خدائے تعالیٰ کی صفات میں سے یہ صفت ہے کہ وہ تو بہ کرنے والوں کی تو بہ کو قبول کر کے وعید کی پیشگوئی کو تاخیر میں ڈال دیتا ہے۔ منہ بقیه حاشیه الانعام : ۱۴۸