ایّام الصّلح — Page 232
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۳۲ تا اُس چشمہ لا زوال سے روشنی پا کر عمدہ تدبیریں میسر آ سکیں کہیں اتمام الصلح ایک اور اعتراض ہے جو پیش کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ کوئی تقدیر معلق نہیں ہو سکتی اور کوئی الہامی پیشگوئی جو شرطی طور پر ہو خدا تعالیٰ کی عادت کے برخلاف ہے ۔“ سوواضح رہے کہ یہ اعتراض بھی ایسا ہی دھوکا ہے جیسا کہ پہلا دھوکا تھا۔ انسانوں کی طبیعتیں ہمیشہ سے اس طرف مائل ہیں کہ اگر وہ آج کل مسلمانوں میں ایک ایسا گروہ بھی پایا جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ دعا کچھ چیز نہیں حاشیه ہے اور ہے اور قضا و قدر بہر حال وقوع میں آتی ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ باوجود سچائی مسئلہ قضا و قدر کے پھر بھی خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں بعض آفات کے دور کرنے کے لئے بعض چیزوں کو سبب ٹھہرا رکھا ہے جیسا کہ پانی پیاس کے بجھانے کے لئے اور روٹی بھوک کے دور کرنے کے لئے قدرتی اسباب ہیں پھر کیوں اس بات سے تعجب کیا جائے کہ دعا بھی حاجت براری کے لئے خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں ایک سبب ہے جس میں قدرت حق نے فیوض الہی کے جذب کرنے کے لئے ایک قوت رکھی ہے۔ ہزاروں عارفوں راستبازوں کا تجربہ گواہی دے رہا ہے کہ در حقیقت دُعا میں ایک قوت جذب ہے اور ہم بھی اپنی کتابوں میں اس بارے میں اپنے ذاتی تجارب لکھ چکے ہیں اور تجربہ سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت نہیں ۔ اگر چہ یہ سچ ہے کہ قضا و قدر میں پہلے سب کچھ قرار پا چکا ہے مگر جس طرح یہ قرار پا چکا ہے کہ فلاں شخص بیمار ہوگا اور پھر یہ دوا استعمال کرے گا تو وہ شفا پا جائے گا اسی طرح یہ بھی قرار پاچکا ہے کہ فلاں مصیبت زدہ اگر دعا کرے گا تو قبولیت دعا سے اسباب نجات اس کے لئے پیدا کئے جائیں گے ۔ اور تجربہ گواہی دے رہا ہے کہ جس جگہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ اتفاق ہو جائے کہ ہمہ شرائط دعا ظہور میں آوے وہ کام ضرور ہو جاتا ہے۔ اس کی طرف قرآن شریف کی یہ آیت اشارہ فرمارہی ہے۔ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی تم میرے حضور میں دُعا کرتے رہو آخر میں قبول کرلوں گا۔ تعجب کہ جس حالت میں باوجود قضا و قدر کے مسئلہ پر یقین رکھنے کے تمام لوگ بیماریوں میں ڈاکٹروں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو پھر دُعا کا بھی کیوں دوا پر قیاس نہیں کرتے ؟ منه المؤمن: ٦١