ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 550

ایّام الصّلح — Page 231

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۳۱ امام الصلح سو آ خر وہ خدا سے اس مطلب کو پاتا ہے اور جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے یہ طریق طلب روشنی اگر علی وجہ البصیرت اور بادی حقیقی کی شناخت کے ساتھ ہو تو یہ عارفانہ دعا ہے اور اگر صرف فکر اور خوض کے ذریعہ سے یہ روشنی لا معلوم مبدء سے طلب کی جائے اور منور حقیقی کی ذات پر کامل نظر نہ ہو تو وہ مجو بانہ دعا ہے۔ اب اس تحقیق سے تو یہی ثابت ہوا کہ تدبیر کے پیدا ہونے سے پہلا مرتبہ دُعا کا ہے جس کو قانون قدرت نے ہر ایک بشر کے لئے ایک امر لا بدی اور ضروری ٹھہر ارکھا ہے اور ہر ایک طالب مقصود کو طبعا اس پل پر سے گزرنا پڑتا ہے۔ پھر جائے شرم ہے کہ کوئی ایسا خیال کرے کہ دُعا اور تدبیر میں کوئی تناقض ہے۔ دُعا کرنے سے کیا مطلب ہوتا ہے؟ یہی تو ہوتا ہے کہ وہ عالم الغیب جس کو دقیق در دقیق تدبیریں معلوم ہیں کوئی احسن تدبیر دل میں ڈالے یا بوجہ خالقیت اور قدرت اپنی طرف سے پیدا کرے پھر دُعا اور تدابیر میں تناقض کیونکر ہوا؟ علاوہ اس کے جیسا کہ تدبیر اور دُعا کا باہمی رشتہ قانونِ قدرت کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے ایسا ہی صحیفہ فطرت کی گواہی سے بھی یہی ثبوت ملتا ہے جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ انسانی طبائع کسی مصیبت کے وقت جس طرح تدبیر اور علاج کی طرف مشغول ہوتی ہیں۔ ایسا ہی طبعی جوش سے دُعا اور صدقہ اور خیرات کی طرف جھک جاتی ہیں۔ اگر دُنیا کی تمام قوموں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کسی قوم کا کانشنس اس متفق علیہا مسئلہ کے برخلاف ظاہر نہیں ہوا۔ پس یہی ایک روحانی دلیل اس بات پر ہے کہ انسان کی شریعت باطنی نے بھی قدیم سے تمام قوموں کو یہی فتویٰ دیا ہے کہ وہ دُعا کو اسباب اور تدابیر سے الگ نہ کریں بلکہ دعا کے ذریعہ سے تدابیر کو تلاش کریں ۔ غرض دعا اور تدبیر انسانی طبیعت کے دو طبعی تقاضے ہیں کہ جو قدیم سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے دو حقیقی بھائیوں کی طرح انسانی فطرت کے خادم چلے آئے ہیں اور تدبیر دُعا کے لئے بطور نتیجہ ضرور یہ کے اور دُعا تدبیر کے لئے بطور محرک اور جاذب کے ہے اور انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ تدبیر کرنے سے پہلے دُعا کے ساتھ مبدء فیض سے مدد طلب کرے