آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 372

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۷۲ آسمانی فیصلہ یہ قدرت اور کمال حاصل تھا کہ جب چاہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیں اور باتیں پوچھ لیں بلکہ دوسروں کو بھی دکھلا دیں تو پھر انھوں نے اس عاجز سے بدوں تصدیق نبوی کے کیوں بیعت کر لی اور کیوں دین سال تک برابر خلوص نماؤں کے گروہ میں رہے تعجب کہ ایک دفعہ بھی رسول کریم ان کی خواب میں نہ آئے اور ان پر ظاہر نہ کیا کہ اس کذاب اور مکار اور بے دین سے کیوں بیعت کرتا ہے اور کیوں اپنے تئیں گمراہی میں پھنساتا ہے کیا کوئی عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ جس شخص کو یہ اقتدار حاصل ہے کہ بات بات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضوری میں چلا جاوے اور ان کے فرمودہ کے مطابق کار بند ہو۔ اور ان سے صلاح مشورہ لے لے وہ دس برس تک برابر ایک کذاب اور فریبی کے پنجہ میں پھنسا ر ہے اور ایسے شخص کا مرید ہو جاوے جو اللہ اور رسول کا دشمن اور آنحضرت کی تحقیر کرنے والا اور تحت الثریٰ میں گرنے والا ہو زیادہ تر تعجب کا مقام یہ ہے کہ میر صاحب کے بعض دوست بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے بعض خواہیں ہمارے پاس بیان کی تھیں اور کہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلعم کو خواب میں دیکھا اور آنحضرت نے اس عاجز کی نسبت فرمایا کہ وہ شخص واقعی طور پر خلیفہ اللہ اور مجدد دین ہے اور اسی قسم کے بعض خط جن میں خوابوں کا بیان اور تصدیق اس عاجز کے دعوے کی تھی میر صاحب نے اس عاجز کو بھی لکھے اب ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ اگر میر صاحب رسول اللہ صلعم کو خواب میں دیکھ سکتے ہیں تو جو کچھ انھوں نے پہلے دیکھا وہ بہر حال اعتبار کے لائق ہوگا اور اگر وہ خواہیں ان کی اعتبار کے لائق نہیں اور اضغاث احلام میں داخل ہیں تو ایسی خواہیں آئندہ بھی قابل اعتبار نہیں ٹھہر سکتیں ۔ ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ رسول نمائی کا قادرانہ دعوی کس قدر فضول بات ہے حدیث صحیح سے ظاہر ہے کہ تمثل شیطان سے وہی خواب رسول بینی کی مبرا ہو سکتی ہے جس میں آنحضرت صلعم کو ان کے حلیہ پر دیکھا گیا ہو ورنہ شیطان کا تمثل انبیاء کے پیرا یہ میں نہ صرف جائز بلکہ واقعات میں سے ہے ۔ اور شیطان لعین تو خدا تعالیٰ کا تمثل اور اس کے عرش کی تجلی دکھلا دیتا ہے